بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

آٹا،چینی بطور قرض لینا


سوال

دکان دار  آپس میں ایک دوسرے سے آٹا ،چینی اوردال وغیرہ کی تھیلی بطورِقرض لیتے ہیں ،اور  کچھ مدت بعد اس قرض کی  واپسی بھی آٹا، چینی اور دال کی تھیلی  کی صورت میں  کرتے ہیں،شرعاً  ایسا معاملہ  کرنا کیسا ہے ؟

جواب

                شرعی نقطۂ نظر سے مثلی اشیاء،یعنی مکیلات،موزونات اور عددیات متقاربہ(جن میں زیادہ تفاوت نہ ہو)میں قرض کا معاملہ جائز ہے،البتہ آٹا  وزن کے حساب سے قرض کے طور پر دینے میں فقہاے کرام کا آپس میں اختلاف  ہے،امام ابویوسفؒ نے عرف کی بنا پربطورِ استحسان آٹے میں بھی قرض معاملہ کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔

               صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگر  دکان دار آپس میں ایک دوسرے سے ضرورت کے وقت آٹا ،چینی، دال وغیرہ بطور قرض لیتے ہوں اور  ادائیگی کے وقت قرض لینے والا دکان دار اتنی ہی مقدار میں چاول،آٹے وغیرہ کی تھیلی قرض خو اہ کو واپس کرتا ہو تو شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

 

ويجوز ‌القرض ‌فيما هو من ذوات الأمثال كالمكيل والموزون والعددي المتقارب كالبيض ولا يجوز فيما ليس من ذوات الأمثال كالحيوان والثياب والعدديات المتفاوتة۔۔۔ذكر في الأصل إذا استقرض الدقيق وزنا لا يرده وزنا ولكن يصطلحان على القيمة وعن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - في رواية يجوز استقراضه وزنا استحسانا إذا تعارف الناس ذلك وعليه الفتوى.(الفتاوى الهندية،كتاب البيوع،الباب التاسع عشرفي الفرض والاستقراض والاستصناع،ج:3 ص:201)


فتویٰ نمبر : 3196/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں