بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعى بھائى كے ساتھ ایک گھر میں رہنا


سوال

میں ایک 34 سالہ بیوہ ہوں، میں نے اپنے ایک رضاعی بھائی (27 سال عمر، غیر شادی شدہ) کو گاوں سے بلا کر اپنے گھر میں مقیم کیا ہے تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ گھر میں ایک مرد موجود ہے  تو میرا گھر لوگو ں کی بری نظر وں سے محفوط رہے گا۔ میری دو بالغ بیٹاں ہیں لیکن بیٹا نابالغ بچہ ہے۔ چونکہ معاشرے میں رضاعی رشتوں کے میل جول کا رواج نہیں ہے اس لیے کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں اس کا تعارف سگے بھائی کے طور پر کروں؟ اورکیا اس کی موجودگی میں  میرے اور میری بالغ بیٹیوں کے لیےسر کے بال کنگھی کرنا، بناؤسنگار کرنا یا ننگے سر کام کاج کرنا جائز ہے؟

جواب

                 شریعتِ مطہرہ نے ہر مسلمان  مرد وعورت کو، عفت وعصمت اور پاک دامن زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے اور فتنہ و فساد اور منکرات وفواحش کے سدِ باب کے واسطے عورت پر غیر محرم سے  پردہ لازم کیا ہے۔  رضاعی بھائی وغیرہ اگر چہ محارم میں سے ہیں،  لیکن نسبی رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے  وہ  بعض احکام میں نسبی محارم سے مختلف ہیں، مثلاً: خلوت کے حکم میں۔لہذا خوفِ فتنہ کی وجہ سے کسی عورت کا اپنے رضاعی محرم کے ساتھ خلوت یا ان کے سامنے بال کنگھی کرنا، بناؤ سنگار کرنا یا ننگے سر کام کاج کرنا  شرعاً جائز نہیں۔ اور چونکہ وہ سگا بھائی نہیں ہے تو اس کا تعارف سگے بھائی کے طور پر کرانا بھی جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے جو شرعا ناجائز ہے۔

 

حدثنا سليمان أبو الربيع، قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر، قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان ". (صحيح البخاري، كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، ج:1، ص:10)

والخلوة بالمحرم مباحة إلا الأخت رضاعا، والصهرة الشابة... وقال ابن عابدین تحت قوله (إلا الأخت رضاعا) قال في القنية: وفي استحسان القاضي الصدر الشهيد، وينبغي للأخ من الرضاع أن لا يخلو بأخته من الرضاع، لأن الغالب هناك الوقوع في الجماع ـ وأفاد العلامة البيري أن ينبغي معناه الوجوب هنا. (الدرالمختار علی صدرردالمحتار، کتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج:9، ص: 530)


فتویٰ نمبر : 5191/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں