بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/10/2026

دارالافتاء

 

حالت احرام میں" کعبین" کھلے رکھنے سے مراد


سوال

احرام کی حالت میں مردوں کے لیے"کعبین" کو کھلا رکھنے کا حکم دیا گیا ہےاور عربی زبان میں کعب کا اطلاق عموماً ٹخنے پر ہوتا ہے جیسا کہ وضو میں،تو کیا احرام میں بھی ٹخنے ہی مراد ہیں یا پاؤں کے درمیان کی ابھری ہوئی ہڈی مراد ہے؟جیسا کہ مشہور ہے۔

جواب

               واضح رہے کہ حالت احرام میں مردوں کے لیے کعبین کا کھلا رکھنا ضروری ہے،کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"محرم شخص قمیص، عمامہ، اورپاجامہ نہ پہنے،نہ کوئی سرپوش اوڑھے اور نہ کوئی زعفران اور ورس سے رنگا ہوا کپڑاپہنے  اوراگر کسی کو جوتے میسر نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے اور انہیں کعبین کے نیچے سے کاٹ دے۔"کعب "لغت کے اعتبار سے ابھری ہوئی چیز کو کہا جاتا ہےپاؤں میں ابھری ہوئی ہڈی ٹخنہ بھی ہےاور پاؤں کے اوپروالی ہڈی بھی۔امام محمد ؒ سے احرام کے سلسلے میں ہشام بن عبید اللہ نے یہ نقل کیا ہےکہ انہوں نے پاؤں کے درمیان کی ہڈی جہاں جوتے کا تسمہ باندھا جاتا ہےاس کی طرف اشارہ کر کے اس کو مراد لیا،چونکہ امام محمدؒ کا قول لغت میں معتبر شمار ہوتا ہےاس لیے امام محمدؒ کے قول کےمطابق فقہائے احناف کی عبارات  میں یہ درج  ہےکہ ٹخنے اور ہڈی دونوں کھلے رکھے جائیں،اسی میں احتیاط بھی ہے اور عبادات میں احتیاط کے پہلو پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہےاس لیے فقہاء نے اسی کو ترجیح دی ہے،البتہ وضو میں اس سے بالاتفاق ٹخنے ہی مراد ہیں۔اگر چہ ہشام نے وہاں بھی امام محمدؒ سے اِس اوپر والی ہڈی کے مرادہونے کاقول نقل کیا ہے،لیکن فقہاء نے اس کو رد کیا ہےکہ یہ ان کا وہم ہے۔در اصل امام محمدؒ نے احرام میں یہ فرمایاتھاتو ہشام نے وضو میں بھی اُسے ہی سمجھ لیا،لیکن ایسا نہیں بلکہ وضو میں بالاتفاق ٹخنے ہی مراد ہیں،کیونکہ اس کا ثبوت دوسری احادیث اور روایات سے بھی ہوتا ہےاوروضو میں ٹخنوں کے مراد لینے میں ہی احتیاط ہے۔

 

عن سالم، عن ابن عمر، قال: سأل رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ما يلبس المحرم؟ فقال: «لا يلبس القميص ولا السراويل، ولا البرنس، ولا ثوبا مسه الزعفران، ولا ورس، فمن لم يجد النعلين فليلبس الخفين، وليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبين۔(صحيح البخاري،باب الصلاة في القميص والسراويل والتبان والقباء،ج:1،ص:82،رقم الحديث:366)

(قوله عند معقد الشراك) وهو المفصل الذي في وسط القدم كذا روى هشام عن محمد، بخلافه في الوضوء فإنه العظم الناتئ أي المرتفع ولم يعين في الحديث أحدهما لكن لما كان الكعب يطلق عليهما حمل على الأول احتياطا لأن الأحوط فيما كان أكثر كشفا ۔(رد المحتار على الدر المختار،فصل في الإحرام،ج:2،ص:163)

(قوله والكعب هنا) قيد بالظروف لأنه في الطهارة يراد به العظم الناتئ ولم يذكر هذا في الحديث لكن لما كان الكعب يطلق عليه وعلى الناتئ حمل عليه احتياطا۔(فتح القدير،باب الإحرام،ج:2،ص:346)

والكعب هنا:العظم المثلث المبطن على ظهر القدم عند معقد الشراك دون الناتي فيما روی هشام عن محمد رحمه الله۔(غنية الناسك في بغية المناسك، باب الإحرام ،ص:142)

(قوله: والكعبين) هما العظمان الناشزان من جانبي القدم أي المرتفعان كذا في المغرب وصححه في الهداية وغيرها، وروى هشام عن محمد أنه في ظهر القدم عند مقعد الشراك، قالوا: هو سهو من هشام؛ لأن محمدا إنما قال ذلك في المحرم إذا لم يجد النعلين حيث يقطع خفيه أسفل من الكعبين وأشار محمد بيده إلى موضع القطع فنقله هشام إلى الطهارة۔(ردالمحتار على الدر المختار،أركان الوضوء،ج:1،ص:98)

(قوله إلى معقد الشراك) أي المحل الذي يعقد عليه شراك النعل بالكسر أي سيره، فالمراد به المفصل الذي في وسط القدم ويسمى كعبا، ومنه قولهم في الإحرام: يقطع الخفين أسفل من الكعبين۔(ردالمحتار على الدر المختار،شروط المسح على الخفين،ج:1،ص:268)

(قوله: ورجليه بكعبيه) أي مع كعبيه كما تقدم والكعبان هما العظمان الناشزان من جانبي القدم أي المرتفعان كذا في المغرب وصححه في الهداية وغيرها وروى هشام عن محمد أنه في ظهر القدم عند مقعد الشراك قالوا هو سهو من هشام؛ لأن محمدا إنما قال ذلك في المحرم إذا لم يجد النعلين حيث يقطع خفيه أسفل من الكعبين وأشار محمد بيده إلى موضع القطع فنقله هشام إلى الطهارة۔(البحر الرائق،أركان الطهارة،ج:1،ص:14)

وأما الكعب فهو العظم الناتئ المتصل بعظم الساق وهو المفهوم في اللسان ۔۔۔۔۔وروى هشام عن محمد - رحمه الله - أنه قال: المفصل الذي في وسط القدم عند معقد الشراك ووجهه أن الكعب اسم للمفصل ومنه كعوب الرمح أي مفاصله والذي في وسط القدم مفصل وهو المتيقن به وهذا سهو من هشام لم يرد محمد - رحمه الله تعالى - تفسير الكعب بهذا في الطهارة، وإنما أراد في المحرم إذا لم يجد نعلين أنه يقطع خفيه أسفل من الكعبين وفسر الكعب بهذا، فأما في الطهارة، فلا شك أنه العظم الناتئ كما فسره في الزيادات۔(المبسوط،كيفية الوضوء،ج:1،ص:9)


فتویٰ نمبر : 9316/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں