بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

قبضہ کیے بغیر کرنسی کی خریدو فروخت


سوال

ایک شخص نے پاکستان میں صراف سے پاکستانی روپے کے بدلے درہم خریدے، صراف نے اس سے کہا کہ درہم دوبئی میں ہیں وہاں سے وصول کر لو۔ اس شخص نے درہم وصول نہیں کیے اور آگے منافع پر پشاور میں بیچ دیے، جس پر بیچے اس سے کہا کہ وہ دوبئی سے وصول کر لو تو اس نے دوبئی سے وصول کیے اور اس شخص کو پاکستانی روپے دو دن بعد منافع سمیت دیے، کیا ایسی خریدو فروخت کرنا شرعاً جائز ہے؟

جواب

             مروجہ کرنسی ثمن خلقی نہیں بلکہ ثمن عرفی ہے اس لئے مجلس عقد میں دونوں کرنسیوں کی بجائے کسی ایک کرنسی  پر قبضہ ضروری ہے  تاکہ ادھار کے بدلہ ادھار کی بیع لازم نہ آئے۔

            صورت مسؤلہ میں اس شخص نے صراف سے درہم خریدے اگر مجلس ہی میں پاکستانی روپے دیے لیکن درہم پر قبضہ نہیں کیا تو یہ جائز ہے کیونکہ احد البدلین پر مجلس عقد میں قبضہ ہوگیا لیکن جب اس شخص نے دراہم قبضہ کیے بغیر آگے فروخت کیے اور اس خریدو فروخت میں مجلس عقد میں کسی ایک کرنسی پر بھی قبضہ نہیں ہوا تو یہ عقد بیع الکالی بالکالی(ادھار کے بدلہ ادھار) کے زمرہ میں داخل ہو کر جائز نہیں ہوا۔

 

(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز)وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز۔ (تنوير الابصار مع الدر المختار،باب الربا،ج7،ص414)

ومنها في المبيع وهو أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم ۔۔۔ وأن يكون مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه ۔۔۔ ولا بيع ما ليس مملوكا له ۔۔۔ وأما شرائط النفاذ فنوعان أحدهما الملك أو الولاية۔(الفتاوى الهندية،كتاب البيوع،الباب الاول،ج3،ص2)


فتویٰ نمبر : 3177/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں