بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مشروط طلاق کی ایک صورت
سوال
آج سے دس سال پہلے میرا سسرال والوں کے ساتھ کچھ اختلافات ہو گئے۔تو میں نے اپنی بیوی ،اپنے بھائی اور بھابھی کو بٹھا کر کہا کہ آج کے بعد میں سسرال والوں کے گھر نہیں جاؤں گا ،اگر سسرال والوں کے گھر گیا تو مجھ پر میری بیوی تین شرط طلاق ہو گی ۔میں ابھی تک سسرال والوں کے گھر نہیں گیا،اب میرے سالے نے اپنا علیحدہ گھر بنایا ہے ،تو کیا میں سالے کے گھر جا سکتا ہوں۔میرے سالے کے ساتھ اس کے ابو یعنی میرے سسر بھی رہتے ہیں۔جس وقت میں نے قسم اٹھائی تھی اس وقت ان کا ایک ہی گھر تھا ۔اور میری نیت بھی اسی گھر کی تھی ۔تو کیا میں سالے کے گھر جا سکتا ہوں؟ برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے،نیز اگر شرط کے الفاظ سے کوئی خاص معنی مراد لینے کی نیت کی ہو اور الفاظ میں اس معنی کا احتمال بھی ہو تو اس کی نیت معتبر ہوگی،لیکن اگر کوئی نیت نہ کی ہو تو پھر عرف کا اعتبار ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق سائل کے الفاظ ”اگر میں سسرال والوں کے گھر گیا تو مجھ پر میری بیوی تین شرط طلاق ہوگی" میں اگر اس کی نیت متعین کردہ خاص گھر ہو تو سالے کے گھر جانے سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی،اگرچہ سسر بھی ساتھ رہتا ہو۔تاہم اگر کوئی خاص گھر مراد نہیں تھا،بلکہ سسرال والے مراد تھے توچاہے سسرال والے اسی متعین گھر میں ہو ں یا سالے کے بنائے ہوئے گھر میں رہتے ہوں ، بہر حال جب سائل ان کے ہاں چلا جائےتو بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ کے ساتھ شوہر پر حرام ہوجائےگی۔
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا. (الفتاوى الهندية،ج:1،ص:488، دارالفكر، بيروت)
الأيمان مبنية على العرف إذا لم تكن نية فإن كانت، واللفظ يحتمله، انعقدت اليمين باعتبارها. (غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر، ج:1،ص:187، دار الكتب العلمية، بيروت)
وفي «المنتقى» عن محمد رحمه الله: إذا قال لغيره: والله لا أدخل دارك، وللمحلوف عليه دار ملك يسكنها، والحالف لم ينوِ هذه الدار بعينها، ثم إن المحلوف عليه تحول من هذه الدار إلى دار أخرى وسكنها بإجارة أو عارية فدخل الحالف عليه يحنث. وإن كان نية الحالف على دار هي ملك المحلوف عليه وباقي المسألة بحالها لا يحنث. (المحيط البرهاني في الفقه النعماني،ج:4،ص:321،دار الكتب العلمية، بيروت)
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنت ومالك لأبيك إن أولادكم من أطيب كسبكم فكلوا من كسب أولادكم» قال أبو جعفر: فذهب قوم إلى أن ما كسبه الابن من مال فهو لأبيه واحتجوا في ذلك بهذه الآثار. وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا: ما كسب الابن من شيء فهو له خاصة دون أبيه … وقد أجمع المسلمون أن الابن إذا ملك مملوكة حل له أن يطأها …فدل ذلك أيضا على انتفاء ملك الأب لمال الابن وأن ملك الابن فيه ثابت دون أبيه. وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله (شرح معاني الآثار،ج:1،ص:158، دار الكتب العلمية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں