بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 27/10/2026 |
دارالافتاء
وقت مقررہ سے پہلے چھٹی کرکےپوری تنخواہ لینا
سوال
بندہ ایک سرکاری اسکول میں استاد ہے ۔بندےکی دن میں چار پیریڈ ہیں ۔ جو مکمل لیتا ہے۔ اسکول بھی ایک قبائلی علاقے میں تقریباواقع ہے۔ لیکن اسکول کی چھٹی اپنے وقت سے تقریباگھنٹہ سوا گھنٹہ پہلے ہوتی ہے۔سارے اساتذہ اور بچے چلے جاتے ہیں۔ بندہ اسکول میں آخری رہ جاتا ہے۔ بندے نے انچارج سے کہا کہ اسکول کی چھٹی کو ذرا تاخیر سے کی جائے ،اس نے کہا ٹھیک ہے جس ٹائم آپ کی مرضی ہو۔ لیکن وہ سب سے پہلے چلے جاتے ہیں۔ تو بقیہ اسٹاف بھی چلے جاتے ہیں،حتی کے چوکیدار بھی بار بار کہتا ہےکہ سب چلے گئے چھٹی کرو ،اور بچوں کو بھی اکیلےسنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بندے کو بقیہ وقت سکول میں اکیلے گزارنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ آخر میں رہنے سے چوکیدار نہ ہونے کی وجہ سےا سکول کی تمام ذمہ داری(چوری وغیرہ)اس پر عائد ہوسکتی ہے۔بندہ جب اسکول سے نکلتا ہے تو وقت سے پہلے نکلنےپر دل مطمئن نہیں ہوتا۔ برائے مہربانی اس کی تنخواہ کا کیا حکم ہے۔ اور اگر حرام ہےتو اس کی تلافی کا کیا طریقہ ہے۔
جواب
واضح رہےکہ سرکاری ملازمین اجیر خاص کے حکم میں ہوتے ہیں،اور اجیر خاص اس وقت اجرت کا مستحق ہوتا ہے،جب وہ مدت اجارہ میں اپنے آپ کو مستاجر کے حوالےکرےاگرچہ مستاجر کاکوئی کام نہ ہو۔
صورت مسئولہ کے مطابق سائل جو اس صورتحال سےمطمئن نہیں او رطلبہ کی غیر حاضری کی وجہ سے اسباق نہیں پڑھاسکتا،اس کو چاہیے کہ مقررہ اوقات میں حاضر ہوکر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے،پھر اگرطلبہ کی غیرحاضری کی وجہ سے اسباق نہ پڑھاسکے تو اس کے لیےان اوقات کی تنحواہ لینا جائز ہوگا۔نیز مذکورہ عوارض چونکہ کوئی قابل معقول اعذار نہیں ہیں ،اس لے وقت مقررہ سےپہلے بلاعذرچلے جانے کی صورت میں لی گئی تنخواہ اگر ممکن ہوتومتعلقہ سرکاری ادارےکولوٹانا ضروری ہے ،ورنہ ثواب کی نیت کیےبغیرصدقہ کرے۔
قال اللہ تعالی:﴿وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ وَتُدۡلُواْ بِهَآ إِلَى ٱلۡحُكَّامِ لِتَأۡكُلُواْ فَرِيقٗا مِّنۡ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ بِٱلۡإِثۡمِ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ﴾(البقرة ،ألأية 188)
قال القرطبي (رحمه الله تعالى)تحت هذه الأية: الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى الله عليه وسلم، والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه.(أحكام القرآن للقرطبي،ج1،ص ،دار إحياءالتراث العربي)
الأجير الخاص يستحق الأجرة بتسليم نفسه للعمل عمل أو لم يعمل.(البحر الرائق،كتاب الإجارة،باب ضمان الأجير،ج:8،ص:53،دار الكتب العلمية)
لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.(الدر المختار مع ردالمحتار،كتاب الحظر والإباحة،فصل في البيع،ج:9،ص:553،دارالكتب العلمية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 330
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 247
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 903
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 456
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 577
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 497
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 478
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 325
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1201
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 389
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں