بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

گاؤں گریڑہ میں نماز جمعہ


سوال

 ضلع بنوں شہر کے متعین حدود سے تقریباڈیڑھ میل  کے فاصلے پر ایک علاقہ واقع ہے ۔ مجموعہ اور پورے علاقے کا نام گریڑھ ہے ۔ جس کی مجموعی آبادی تقریبا3823نفوس پر مشتمل ہے۔ اب یہ علاقہ جو کہ گریڑہ کے نام سے موسوم ہے۔اس  میں5 بستیاں آباد ہیں ۔ اور اس کے علاوہ تقریبا 4 کو ٹکہ جات بھی اس گریڑہ میں آباد ہیں جن میں بھی متعدد نفوس بستے ہیں۔ نیز مجموعی آبادی گریڑہ  ایک ودوسرے کے ساتھ غمی اور خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔ نیز مجموعی آبادی گریڑہ میں تقریبا ضروریات زندگی بیشتر پورے ہیں۔ مثلاً ایک عدد سرکاری پٹوار خانہ ، مرغی فارم ، متعدد مدار س ، پانچ مساجد ، پانچ سکولز ، متعد داشیائےضرورت کے دکانات جن میں پانچ عدد ڈاکٹروں کے دکانات (کلینک)کے علاوہ دس  عدد تک دیگر اشیائے ضرورت کے دکانات بھی موجود ہیں ۔ نیز گریز و کے قریب موضع کنکر میں زمانہ قدیم سے دو مساجد میں نماز جمعہ قائم چلی آرہی ہے ۔ انجناب سے اس بارے استفتاء کی درخواست ہے ۔ کہ کیا اس گریڑہ کے علاقے میں جمعہ کی نماز درست ہے ؟ یا نہیں ؟

جواب

               جمعہ کے وجوب ادا کے لئے دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرط یہ بھی ہے کہ  شہر   ہو یا شہر کاتابع ہو یا بڑا گاؤں ہو۔موجودہ دور میں جس گاؤں /قصبہ کی آبادی دو ڈھائی ہزار  افراد پر مشتمل ہو اور ضروریات زندگی اس میں  میسر ہوں   تو اس میں نماز جمعہ جائز ہے  ، لیکن جہاں کہیں یہ شرائط مفقود ہوں وہاں نماز جمعہ پڑھنا جائز نہیں ۔

               صورت مسؤلہ میں عرف میں اگر یہ ساری آبادی ایک ہی گاؤں شمار ہوتا ہےتو یہاں جمعہ کی نماز درست ہوگی ور اگر ہر بستی کو الگ الگ گاؤں شمار کیا جاتا ہےتو پھر ہر بستی کی اپنی آبادی کا اعتبار ہوگا۔

 

لاتصح الجمعۃ الا فی مصر جامع او مصلی المصر ولا تجوز فی القری ۔(الھدایۃ ،کتاب الصلوۃ ، باب الجمعۃ،ج:1،ص: 177)

وَتُؤَدَّى الْجُمُعَةُ في مِصْرٍ وَاحِدٍ في مَوَاضِعَ كَثِيرَةٍ وهو قَوْلُ أبي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى وهو الْأَصَحُّ۔(الفتاوی الھندیہ: ج:1 ،ص:145)

 واستشهد له بما في التجنيس عن الحلواني أن كسالى العوام إذا صلوا الفجر عند طلوع الشمس لا يمنعون لأنهم إذا منعوا تركوها أصلا وأداؤها مع تجويز أهل الحديث لها أولى من تركها أصلا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار :ج:2،ص:171)


فتویٰ نمبر : 9317/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں