بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نمازی کے آگے سے گزرنے کی حد


سوال

نمازی کے آگے سے گزرنا کیسا ہے؟ اور نمازی کے سامنے گزرنے کی حد کتنی ہے؟

جواب

              شرعی نقطہ نظر سے نمازی کے سامنے سے گزرنا ممنوع ہے،حدیث شریف میں نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے متعلق سخت وعید آئی ہے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ"نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو اگر اپنے اس فعل کا گناہ  معلوم ہوجائے تو وہ نمازی کے سامنے سے گزرنے کی بجائے چالیس سال تک کھڑا رہنا پسند کرے گا"۔

            اگر نمازی بڑی مسجد یا صحراء میں نماز پڑھ رہا ہو تو  تین صف کی مقدار کے برابر آگے سے گزرنے کی گنجائش ہے اور اگر چھوٹی مسجد یا گھر میں نماز پڑھ رہا ہو تو  وہ ایک مکان کے حکم میں حکم ہوکر اس کے سامنے سے سترہ کے بغیر گزرنا جائز نہیں ہے،نیز نمازی کو چاہیے کہ نماز پڑھتے وقت اپنے سامنے سترہ رکھنے کا اہتمام کرے  کہ یہ سنت سے ثابت ہے۔

 

قال أبو جهيم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه، لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه. قال أبو النضر: لا أدري، أقال أربعين يوما، أو شهرا، أو سنة.(أخرجه البخاري في صحيحه، كتاب الصلاة، باب إثم الماربين يدي المصلي، رقم الحديث:510، ج:1، ص:184)

وقال إذا صلى راميا بصره إلى موضع سجوده،فلم يقع عليه بصره لم يكره وهذا أحسن۔۔۔۔هذا الحد الذي ذكرنا إذا كان الرجل يصلي في الصحراء،وأما في المسجدفالحد هو المسجد إلا أن يكون بينه وبين المار أسطوانة أو غيرها. (الكفايةعلى هامش فتح القدير:كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيها،تحت قوله:إنما ياثم:ج:1،ص:354)


فتویٰ نمبر : 9339/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں