بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

باپ سے الگ رہنے والے بیٹے کا میراث میں حصہ


سوال

اگر کوئی بیٹا باپ کی زندگی میں اپنے باپ سے جدا ہو گیا ہو تو کیا اس کا باپ کی میراث میں حصہ ہوگا یا نہیں؟

جواب

             واضح رہے کہ اگر کوئی بیٹا اپنے والدین کی زندگی میں والدین سے الگ رہتا ہوتو اس سے وہ والدین کے میراث میں اپنے  حصے سے محروم نہیں ہوتا ۔لہذا اگر کوئی بیٹا باپ کی زندگی  میں  اس سے جدا ہوا ہو اور الگ رہتا ہو تو باپ کے مرنے کے بعد وہ بھی  میراث میں اپنے حصے کا مالک ہوگا۔

 

قال الله تعالى: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ﴾ (النساء: 11)

عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من فر من ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» (سنن ابن ماجه، كتاب الوصايا، رقم الحديث:2703)

ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء وهو على ضربين: ولاء عتاقة وولاء موالاة وفي كل منهما يرث الأعلى من الأسفل…(الفتاوى الهندية:كتاب الفرائض،الباب الاول،ج:6،ص:440)

الإرث جبري لايسقط بالإسقاط۔(رد المحتار على الدر المختار:كتاب الدعوى،باب التخالف ج:11،ص:678)


فتویٰ نمبر : 3386/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں