بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ربیبہ رضیعہ کارضاعی ماں کےدوسرےشوہرسےنکاح کرنا


سوال

رضاعی ماں کے دوسرے شوہر کا کیا حکم ہے ؟کیاربیبہ رضیعہ کارضاعی ماں کے دوسرے شوہر سے نکاح جائز ہے یا نہیں یا اس کا عکس کر لیں کہ اپنی بیوی کی سابقہ رضاعی بیٹی سے نکاح جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

            بیوی کےدوسرےشوہرسے بیٹی کو ربیبہ کہا جاتا ہے۔ بیوی کےساتھ ایک مرتبہ ہمبستری کرنےسےربیبہ حرام ہوجاتی ہے۔

            لہذاصورت مسئولہ  میں اگردوسرےشوہرنےہمبستری کی ہوتوبیوی کی رضاعی بیٹی اس کی ربیبہ ہے،اس لئےاس پرحرام ہوگی۔

 

قوله ( ولبن بكر ) والحرمةلا تتعدى إلى زوجها حتى لو طلقها قبل الدخول له التزوج برضيعتها لأن اللبن ليس منه قهستاني ط أما لو طلقها بعد الدخول فليس له التزوج بالرضيعة لأنها صارت من الربائب التي دخل بأمها بحر عن الخانية۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،باب الرضاع،ج:3،ص:218)


فتویٰ نمبر : 6530/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں