بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجدكےلئےوقف شده زمين كوفروخت كرنا


سوال

ازید نے دس مرلہ زمین مسجد كے لیے وقف كی ہے اور ابھی تك اس پر تعمیر شروع نہیں ہوئی تھی كہ اس كے تقریبا چالیس(40)گز دوسری مسجد اور مدرسہ كے لیے كسی نے زمین وقف كی ،اب كہتا ہے كہ میں نے جو دس مرلہ زمین وقف كی ہے اس كو فروخت كركے اس كی رقم اس دوسری مسجد میں استعمال كرتاہوں تو کیایہ جائز ہے؟

جواب

             وقف تام ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو اس میں کم ازکم ایک مرتبہ استعمال ہوجائے،چنانچہ مسجد کے لیے وقف کی گئی زمین کاوقف اس وقت تام متصور ہوگا جب اس میں ایک مرتبہ باجماعت نماز پڑھی جائے۔

          صورت مسئولہ کے مطابق زمین کو مسجدکے لیے وقف کرنے کے  بعداگراس میں باجماعت نمازپڑھی گئی ہوتو اس میں وقف تام ہوچکا ہےاور  اس جگہ کو بیچنا شرعاً جائز نہیں۔اوراگراس میں باجماعت نمازنہ پڑھی گئی ہوتوپھراس زمین کوفروخت کرکےاس کی رقم دوسری مسجدمیں استعمال کرناجائزہے۔

 

وتسليم كل شيء بحسبه، ففي المقبرة بدفن واحد وفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف، واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد۔(ردالمحتار ، كتاب الوقف ، ج: 6 ص: 546 ، دارالكتب العلمية)

(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن) (قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الوقف ، ج: 6 ص: 531 ، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 5192/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں