بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وقف تام ہونے سے قبل زمین کو بیچنا


سوال

ایک صاحب نے ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی،جس میں فی الحال چھ سو طلباء کرام زیر تعلیم ہیں ،لیکن اب یہ مدرسہ طلبہ کی کثرت کی وجہ سے ناکافی ہے۔اسی شخص نے  دوسری جگہ ۱۷ مرلہ زمین مدرسہ کے پیسوں سے خریدی  اس نیت سے کہ اس پر بنات کےلیے مدرسہ بناؤں گااور اسی غرض سے چار دیواری کی حد تک تعمیراتی کام بھی ہوا ہے،لیکن اب تک درس وتدریس اور تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز نہیں ہواہے۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا فقط ارادہ سے زمین وقف ہوجاتی ہے؟اوراس دوسری جگہ کو بیچ کر پہلے مدرسہ کے لیے زمین خریدنا جائز ہےیا نہیں جبکہ پہلی جگہ ضرورت زیادہ ہے بنسبت دوسری جگہ کےکیونکہ یہاں بنات کا ایک مدرسہ پہلے سے ہی موجود ہے۔

جواب

           واضح  رہے کہ محض نیت وارادہ سےکوئی چیز وقف نہیں ہوتی،نیز وقف تام ہونے کے بعد وقف شدہ زمین سے جب تک  متعلقہ مصرف میں فائدہ اٹھانا ممکن ہو تو کسی دوسری زمین سے  اس کا استبدال جائز نہیں۔اور وقف تام  ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو اس میں کم از کم ایک مرتبہ  استعمال ہو جائے ،چنانچہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی زمین  کا وقف اس وقت تام متصور ہو گا جب اس میں تعلیمی سلسلہ شروع ہو جائے ۔تاہم  ایسی زمین جو مدرسہ کے لیے خریدی گئی ہو لیکن اس میں تعلیمی سلسلہ شروع نہ چکا ہو تو  وقف تام نہ ہونے  کی وجہ سےاس میں تبدیلی کی اجازت ہے۔

          صورت مسئولہ  میں اگر زمین مدرسہ کی نیت سے خریدی گئی ہولیکن اس میں تعلیمی سلسلہ شروع نہ ہوا ہو تو شرعااس کو فروخت کر کے دوسری جگہ زمین خریدنے کی گنجائش ہے۔  

 

 الوقف إخراج المال عن الملک علی وجه الصدقة، فلایصح بدون التسلیم کسائر التصرفات۔ (بدائع الصنائع، کتاب الوقف ،ج:5،ص:328 )

وعند محمد لا يزول ملك الواقف الا بالتسليم الي المتولي او إلی الموقوف عليه۔۔۔ حتی ان علی قوله لو لم يسلم الوقف إلی المتولي لا يزول ملكه فله ان يرجع في ذلك واذا مات يورث عنه۔(الفتاوي التاتارخانية،كتاب الوقف ، الفصل الثاني ،ج:8 ،ص:10)

والحاصل ان التسليم علي قول من يشترط التسليم وهو قول محمد يكون باحدي طريقتين: إما باثبات اليد للقيم عليها او لحصول المقصود وذلك في السكني في مسئلة الدار وبالنزول في مسئلة الخان وبالدفن في مسئلة القبروما اشبه ذلك۔( الفتاوي التاتارخانية،كتاب الوقف،الفصل الثاني والعشرون ،ج:8،ص:185)


فتویٰ نمبر : 5179/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں