بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

موبائل میں قرآن مجید كو چھونے کا حکم


سوال

 آج کل موبائل میں جو قرآن مجید ہوتا ہے، اس میں بغیر وضو کے تلاوت کرنا یا اس کی سکرین کو چھونا کیسا ہے۔ دوسرا یہ كہ موبائل میں قرآن کے ہوتے ہے موبائل کو بغیر وضو کے چھو سکتے ہیں یا نہیں کیونکہ عرف میں موبائل کو قرآن نہیں سمجھا جاتا؟

جواب

              واضح رہے کہ قرآن کریم کا ادب واحترام نص قرآنی سے ثابت ہےچنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے﴿لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ﴾  ترجمہ:اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں ۔حضرات مفسرین نے  روایات  کی روشنی میں اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھا ہے کہ جس طرح قر آن کریم کو ہاتھ لگانے یا اٹھانے کے لیےباطنى طہارت كى رعاىت ضروری ہے اسی طرح  باوضو ہونابھی ضروری ہے، چنانچہ بغیر وضو یا جنبی شخص کے لیے قرآن کریم کے مصحف کو بغیر حائل کے ہاتھ لگانا جائز نہیں  ،تا ہم اگر بے وضو شخص کسی الگ کپڑے وغیرہ کے ساتھ قرآن کریم کو ہاتھ لگاتا ہے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ۔

            صورت مسئولہ کے مطابق موبائل سکرین پر قرآ نی آیات (سافٹ فائل) کے جو نقوش نظر آتے ہیں ان کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں باقاعدہ ایسے حروف موجود نہیں ہوتےجن کے لیے ثبات ودوام اور اپنا کوئی وجود ہو ، بلکہ در حقیقت یہ روشنی کی شعاعیں ہيں جومسلسل سکرین پر پڑتی ہیں اس لیے موبائل میں موجود قرآن کریم مصحف قرآنی کے حکم میں نہیں ۔ لہذا  اگر آیات قرآنی سکرین پر نظر آرہی ہوں تو بلاوضو سکرین کو ہاتھ لگانا جائز  ہے تاہم کسی شخص کا یہ ادب قابل تحسین ہے کہ وہ  سکرین پرنظر آنے والی آیات کریمہ کو بھی  بغیر وضوکے  نہ چھوئے ، چنانچہ بعض اکابر کے بارے میں منقول ہے کہ وہ سفید کاغذ کو بھی  بغیر وضو کے ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔

 

قال الله تعالی :﴿لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ﴾ (الواقعة:79)

اختلف في ﴿الْمُطَهَّرُونَ﴾ من هم ؟ فقال أنس وسعيد وابن جبير : لا يمس ذلك الكتاب إلا المطهرون من الذنوب ۔ ۔ ۔ قال قتادة وغيره : ﴿لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ﴾ من الأحداث والأنجاس۔(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی،ج:9، ص:225، دارالإحیاءالتراث العربی)

عن حكيم بن حزام قال : لما بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اليمن قال : لا تمس القرآن إلا وأنت طاهر ۔(المعجم الكبير لسليمان الطبراني،مسند حكيم بن حزام،رقم الحديث 3135 ج3 ص205)

ومنها:حرمة مس المصحف لا يجوز لهما و للجنب والمحدث مس المصحف إلا بغلاف متجاف عنه كالخريطة والجلد الغير المشرز، لا بما هو متصل به۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطهارة ج:1، ص:93 )

قال الْحَلْوَانِيُّ إنَّمَا نِلْت هذا الْعِلْمَ بِالتَّعْظِيمِ فَإِنِّي ما أَخَذْت الْكَاغَدَ إلَّا بِطَهَارَةٍ۔(البحر الرائق،كتاب الطهارة،باب الحيض،ج:1،ص25)


فتویٰ نمبر : 5180/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں