بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

قرض معاملے میں تاخیر پر نفع حاصل کرنا


سوال

میری ایک موبائل کی دکان ہے میرے پاس لوگ جاز کیش یا ایزی پیسہ کروانے آتے ہیں اور ہم ہر ہزار روپے رقم اپنے اکاؤنٹ سے ان کے کسی اکاؤنٹ میں بھیجنے پر 10 روپے بطور اجرت لیتے ہیں اب کچھ لوگ جوا کھیلنے والے بھی آتے ہیں اور کبھی ان کے پاس نقد رقم نہیں ہوتی اور کہتے ہیں کہ ہمیں مثلاً 10000 روپے سینڈ کر دو اور آپ کی اجرت 10 ہزار پر 100 بنتی ہے توہم آپ کو اجرت 500 روپے دیں گے لیکن رقم آپ کو 10 دن بعد ملے گی اس مسئلے کا کیا حکم ہے؟

جواب

                    شریعت مطہرہ کی رو سے قرض کا معاملہ کرتے وقت کوئی ایسی شرط لگانا درست نہیں جس میں قرض دینے والے کا فائدہ ہویہ سود کے زمرے میں داخل ہوکر ناجائز اور حرام ہے۔

              صورت مسئولہ کے مطابق کسی کے اکاؤنٹ کو دس ہزار بھیجنا در اصل اس کو قرض دینا ہے،لہٰذا اس پر اضافی رقم وصول کرنا ،قرض پر نفع حاصل کرنے کی وجہ سے سود کے زمرے میں آتا ہے،اس لیے یہ معاملہ ناجائز ہے۔

 

 وأما الذي يرجع إلى نفس القرض فهو أن لا يكون فيه جر منفعة فإن كان لم يجز ۔۔۔ أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب۔(بدائع الصنائع، كتاب القرض، فصل في الشروط، ج:10، ص:597)

کل قرض جر نفعا حرام ۔(الدر المختار ،کتاب البیوع ،باب المرابحۃ والتولیۃ ،ج7ص395)


فتویٰ نمبر : 3193/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں