بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

نیندسےبیداری کےوقت کپڑوں پرنجاست دیکھنا


سوال

 میں شادی شدہ ہوں تین دن کبھی کم یا زیادہ رات کو سوکر اٹھتاہوں تو کبھی رات کو خواب آتاہے اور کبھی نہیں ،لیکن صبح میرے کپڑے ناپاک ہوتےہیں اب مجھے ہرروز غسل کرنا مشکل ہو تا ہے اور کبھی میں کسی کے ہاں مہمان ہوتا ہوں تو دودو دن تک غسل اور کپڑے میسر نہیں ہوتے اور میں اسی حالت میں رہتا ہوں نماز بھی ضائع ہوجاتی ہے برائے مہربانی اس کا شرعی حل بتا کر مشکور فرمائیں؟

جواب

            واضح رہے کہ نیند سے بیداری کے بعد کپڑوں پر جو دھبہ نظر آئے، توان صورتوں میں غسل واجب ہوگا:

1۔اگر یقین ہوکہ یہ منی ہےتوغسل واجب ہوگاخواب یادہویانہ ہو۔

2۔اگرمذی ہواورخواب یادہوتوغسل واجب ہوگا۔

3۔ شک ہواورمنی ،ودی یامذی تینوں میں سےکسی کی تعیین نہ کرسکےاورخواب یادہوتوغسل واجب ہوگا۔

جبکہ درج ذیل صورتوں میں غسل واجب نہیں ہوگا:

(1)یقین ہوکہ ودی ہےتوغسل واجب نہیں ہوگاچاہےخواب یادہویانہ ہو۔

(2)یقین ہوکہ مذی ہےاورخواب یادنہ ہوتوغسل واجب نہیں ہوگا۔

(3)مذی اور ودی میں شک ہولیکن خواب یادنہ ہوتوغسل واجب نہیں ہوگا۔

            جن صورتوں میں غسل واجب ہےتوان صورتوں میں غسل کرناضروری ہے،اسی طرح کپڑوں کاپاک ہوناضروری ہے۔اگردوسرےپاک کپڑے نہ ہوں توانہی کپڑوں کودھوکرنمازپڑھ سکتےہیں۔

 

"وان استیقظ الرجل ووجد علی فراشه او فخذہ بللا وھو یتذکر احتلاما ان تیقن انه منی أو تیقن أنه مذی أو شک انه منی أو مذی فعلیه الغسل وان تیقن انه ودی لاغسل علیه وان رأی بللا الا انه لم یتذکر الاحتلام فان تیقن انه ودی لا یجب الغسل وان تیقن أنه منی یجب الغسل".۔(الفتاوی الهندية،الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل،ج:1،ص:14)

"فیجب الغسل في سبع صور منہا وہی ماإذا علم أنه مذی أو شک في الأولین ․․․․․ مع تذکر الاحتلام فیہا أو علم أنه منی مطلقاً".(الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الطهارة،ج:1،ص:301)

( وعفا ) الشارع ( عن قدر درهم ) وإن كره تحريما فيجب غسله وما دونه تنزيها فيسن وفوقه مبطل ( وهو مثقال ) عشرون قيراطا ( في ) نجس ( كثيف ) له جرم ( وعرض مقعر الكف ) وهو داخل مفاصل أصابع اليد ( في رقيق من مغلظة كعذرة ) آدمي وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ۔(۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،باب الأنجاس،ج:1،ص:316،بیروت)


فتویٰ نمبر : 9323/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں