بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

پڑوسی سے قطع تعلقی کا حکم


سوال

جو پڑوسی ایسی ہو کے کسی کےہاں آتی جاتی نہ ہو مثلا زینب کے رشتہ دار ہیں زینب تو ان کے گھرآتی جاتی ہے لیکن وہ دعوت  دینے پر بھی ان کے گھر نہیں آتی تو ان سے تعلق ختم کرنا درست ہوگا یانہیں؟

جواب

           معمولی سی بات پر رشتہ داری کو منقطع کرنا اور برابر ناراض رہنا شرعا جائز نہیں ہےایک عام مسلمان سے تین دن سے زیادہ بول چال بند کرنا  شرعا جائز نہیں ہے۔نیز دعوت قبول کرنا اگرچہ مسلمان کا مسلمان پر حق ہے لیکن اس دعوت کا قبول کرنا تب شرعی ذمہ داری بنتی ہے جب اس میں کوئی رکاوٹ نہ ہو یاکوئی اور معتبر عذر ہو جس کے ہوتے ہوئے دعوت میں شریک ہونا دشوار ہو۔

             لہذا صورت مسؤلہ  میں پہلے اس بات کو مدِ نظر رکھنا چاہیے کہ پڑوسیوں کا نہ  آنا کسی عذر کی وجہ سے ہے یا بِلا وجہ ہے ، اگر کسی عذر کی وجہ سے ہو تو پھر شِکوہ نہیں کرنا چاہیے تاہم ان کو چاہیے کہ اپنے اس عذر کا اظہار کرکے دعوت سے معذرت کرلیں ۔ اور اگر بِلا وجہ وہ دعوت کے باوجود بھی نہیں آتی تواس صورت میں  بھی ان کے پڑوس کے دیگر حقوق سے صرفِ نظر کرنا درست نہیں ،نیز  تعلق رکھنے کے لیےان کے گھر جانا ضروری نہیں ۔

 

أن أبا هريرة رضي الله عنه،قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:حق المسلم على المسلم خمس:رد السلام،وعيادة المريض،واتباع الجنائز،وإجابة الدعوة،وتشميت العاطس۔(صحيح البخاري،ج:2،ص:71)

عن أبي شريح، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:والله لا يؤمن، والله لا يؤمن، والله لا يؤمن» قيل: ومن يا رسول الله؟ قال:الذي لا يأمن جاره بوايقه۔(صحيح البخاري،ج:8،ص:10)

عن أنس بن مالك: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:لا تباغضوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا، ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال۔(صحيح البخاري،باب الهجرة،ج:8،ص:21)


فتویٰ نمبر : 5175/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں