بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

رشتہ داری کی حدود


سوال

رشتہ داری کی حدود کہاں تک ہےیعنی رشتہ دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں  ان سب کے ہاں آنا جانا نہیں ہوسکتا تو کس حد تک تعلقات رکھنا ضروری ہے،مثلا  چچازاد،پھوپھی زاد یا ماں باپ کے چچازاد پھوپھی زاد کے ہاں نہ جانے میں کوئی حرج تو نہیں؟

جواب

              جن رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا حکم ہے اور قطع رحمی پر سخت وعید ہے، قرآن وحدیث میں ان کے لیے عموماً دو لفظ (۱) ذوی الارحام (۲) ذوی القربی۔ استعمال کیے گئے ہیں، ذوی الارحام یا ذوی القربیٰ میں وہ تمام رشتہ دار داخل ہیں، جن سے نسبی رشتہ ہو چاہے وہ رشتہ والد کی طرف سے ہو یا والدہ کی طرف سے اور چاہے وہ رشتہ کتنا ہی دور کا ہو، والد کی طرف سے رشتہ داری جیسے دادا دادی، پردادا، پردادی، بھائی، بھتیجے، بھتیجی اوران دونوں کی اولاد کا سلسلہ، بہن بھانجا، بھانجی اور ان دونوں کا سلسلہٴ اولاد، چچا اور ان کی اولاد، پھوپھی اور ان کی اولاد ۔والدہ کی طرف سے رشتہ جیسے نانا، نانی، پرنانا، پرنانی، خالہ،ماموں اور ان  کی اولاد ان سب رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی ضروری  ہے، اورصلہ رحمی کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ بات چیت بند نہ کرے، علاوہ از یں سلام کرنااور دعا دینا اورہدیہ پیش کرنااور مدد کرنا اور ان کے ہاں جانا وغیرہ سب صلہ رحمی میں داخل ہے،تاہم اگر دور کے رشتہ دار ہوں تو صلہ رحمی کے لیے ان کے ہاں جانا ضروری نہیں ،بلکہ جب موقع ملے تو ان کے ساتھ سلام کلام کرلینا ،کسی دکھ درد یا تکلیف میں مبتلا ہوتو ہمدردی کرنا ،فوتگی ہوجائے تو تعزیت اور دعوت دیں تو قبول کرنا یہ سب صلہ رحمی میں داخل ہے۔

 

قال الله تعالى:وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا (النساء:36)

وقال:وَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَئِكَ مِنْكُمْ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (الانفال:75)

قال في تفسیر روح المعاني: والمراد بالرحم الأقارب ویقع علی کل من یجمع بینک وبينه نسب وإن بعد ، ویطلق علی الأقارب من جهة النساء․ (روح المعاني،ج:4،ص:154)

عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:الرحم معلقة بالعرش تقول من وصلني وصله الله، ومن قطعني قطعه الله۔(صحيح مسلم،باب الرحم،ج:4،ص:1981)

(وصلة الرحم واجبة ولو) كانت (بسلام وتحية وهدية) ومعاونة ومجالسة ومكالمة وتلطف وإحسان ويزورهم غبا ليزيد حبا بل يزور أقرباءه كل جمعة أو شهر ولا يرد حاجتهم لأنه من القطيعة في الحديث إن الله يصل من وصل رحمه ويقطع من قطعهاوفي الحديث صلة الرحم تزيد في العمر۔(الدرالمختار،کتاب الحظر والإباحة،ج:6،ص:411)


فتویٰ نمبر : 5177/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں