بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لے پالک بیٹی کو میراث میں حصہ دینا


سوال

مرحوم(محمد ) کے دو بیٹے (عزیز خان،مغل خان)اور ایک بیٹی(شبو)ہیں ۔دونوں بیٹےبغیر اولادکے وفات پاچکے ہیں ،البتہ عزیز خان نے کسی سے ایک بیٹی(سعدیہ) گود لی تھی اور اس کی پرورش کی تھی۔کیا مسماۃسعدیہ کا وراثت میں کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

             شریعتِ مطہرہ کی رو سے کسی شخص کا دوسرے کے بچے کو گود لینا اور اس کو اپنی تربیت اور پرورش میں رکھنا فی نفسہ جائز ہے اور یہ بچہ شرعاً متبنیٰ(لے پالک) کہلاتا ہے اور لےپالک بیٹا یا بیٹی  حقیقی اولاد  نہیں ہوتی اس لیے ان   پر حقیقی اولاد کے احکام جاری نہیں ہوتے ۔ اس لیے شرعاً یہ لازم ہے کہ ان کی نسبت اپنے حقیقی والد کی طرف کی جائے ، اسی طرح وہ  اپنے حقیقی والد کی میراث کے مستحق ہوں گے اور گود لینے والے شخص کی میراث  میں لےپالک کا کوئی حصّہ نہیں ہوتا۔

           صورت مسئولہ میں لےپالک بیٹی(سعدیہ) كا میراث ميں كوئى حصّہ نہیں بنتا۔ تاہم  اگردیگر ورثا اپنی رضامندی سے اس لے پالک کو کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔

 

قال اللہ تعالیٰ :﴿ادعوھم لآبائھم ھو اقسط عند اللہ﴾(سورة الأحزاب:05)

فیبدأ بذی الفرض ثمّ  بالعصبة النسبیّة ثمّ بالعصبة السببیّة ۔۔۔۔۔ ثمّ ذووالأرحام۔( الفتاوی الھندیة، کتاب الفرائض،ج:6،ص:440، دارالفکر)


فتویٰ نمبر : 3362/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں