بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 20/10/2026 |
دارالافتاء
ستر(70)فیصد نمبرات لینے کےساتھ طلاق کومعلق کرنا
سوال
ایک شخص نے اپنی بچی سےکہاکہ تم نےاس امتحان میں 70نمبرضرورلینےہیں ،ورنہ بیوی کوتین طلاق ہیں۔سائل کے بقول اس کا مقصدیہ تھا کہ 100میں سے 70نمبر لینے ہیں،لیکن بچی نے بتایاکہ کل نمبرہی70ہیں،اس میں کیسے 70/70 حاصل کرسکیں گے،تو والد نے بتایا کہ نہیں میرا مقصد 70فیصد ہے۔اب اگر بالفرض اس بچی نے 70میں سے70فیصد لیے،تو کیا یہ بندہ حانث ہوگا یا 70کا70نمبر ہی مراد ہوگا؟
جواب
واضح رہےکہ طلاق اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کی جائےتوشرط کے پائےجانے سےطلاق واقع ہوجائے گی۔نیزشرط کےالفاظ سے اگرکوئی خاص نیت یا معنی مرادہو،اور الفاظ بھی اس معنی کا احتما ل رکھتے ہوں تو اسی نیت کے اعتبا ر سے شرط قائم ہوگی،اور اگر کوئی نیت نہ ہوتو عر ف کا اعتبار ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر خاوند نے واقعی مذکورہ الفاظ کے ساتھ طلاق معلق کی ہو ،اور 70نمبر سے 70فیصد مراد لی ہو،اور بچی نے 70فیصدیااس سے زیادہ لیےتو کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی،لیکن 70فیصد سے کم لینے کی صورت میں تین طلاق واقع ہوجائیں گی،عموما ہمارے عرف میں بھی 70بول کر 70میں70نمبرلینا مراد نہیں ہوتا بلکہ70فیصدہی مراد ہوتے ہیں۔
إذا أضافه إلى الشرط،وقع عقيب الشرط اتفاقا. (الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط ج1،ص488،دارالفكر بيروت)
فظهر أن مرادنا بانصراف الكلام إلى العرف إذالم تكن له نية،وإن كان له نية شيء،واللفظ يحتمله انعقد اليمين باعتباره.(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الأيمان،ج5،ص528،دارالكتب العلمية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں