بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

شرعی پردے کے حدود وقیود


سوال

آج کل ایک گھر میں چچا  زاد بہن بھائی  یا دو بھائی رہتےہیں تو دیور بهابهی کےپردے کے شرعی حدود کیا ہوں گے؟

 

جواب

            واضح رہے کہ عورت کا سارا بدن ستر میں   داخل ہے سوائے چہرہ ، ہتھیلی اور پاؤں   کے۔جو  اعضا ء ستر میں داخل ہیں ان کا چھپانا غیر محرموں سے ضروری ہے ،البتہ جو اعضا ( چہرہ ،  ہتھیلی ، پاؤں  ) ستر میں داخل نہیں، فتنہ وفساد اور بےحیائی کے عام ہونے کی وجہ سے فقہا ےکرام نے ان کا چھپانا بھی واجب قرار دیا ہے  اس لیے عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ان اعضاکو اجنبی لوگوں کے سامنے کھلا نہ رکھے،تاہم جہاں کہیں مشترکہ خاندانی نظام ہواور ایک ساتھ رہنےمیں  عورت کے لیے چہرہ چھپانا باعث حرج ہویا قطع رحمی کاخطرہ ہوتو ایسے ماحول میں عورت کے لیے اپنے غیر محرم رشتہ داروں کے سامنےصرف چہرے،ہتھیلی اور پاؤں کو ظاہر کرنے کی گنجائش ہے،بشرطیکہ فتنہ کا خوف نہ ہو،اوراگر فتنہ وفساد کا خطرہ ہو تو پھر پردہ  واجب ہے نیز عورت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ غیر محرموں سے خلوت اختیار نہ کرے۔

 

وأما النظر إلى الأجنبيات فنقول: ‌يجوز ‌النظر ‌إلى ‌مواضع الزينة الظاهرة منهن وذلك الوجه والكف في ظاهر الرواية، كذا في الذخيرة. وإن غلب على ظنه أنه يشتهي فهو حرام، كذا في الينابيع. النظر إلى وجه الأجنبية إذا لم يكن عن شهوة ليس بحرام لكنه مكروه، كذا في السراجية. وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - يجوز النظر إلى قدمها أيضا.(الفتاوی الهندية، كتاب الكراهية،الباب الثامن فيمايحل للرجل النظر اليه...،ج: 5، ص: 381)

(فإن خاف الشهوة) أو شك (امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام، وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة، قال ابن عابدين رحمه الله: قوله:(وأمافي زماننافمنع من الشابة)لا لأنه عورة بل لخوف الفتنة (رد المحتارعلى الدر المختار،كتاب الحظر والاباحة،فصل في النظر والمس ج:9، ص:532)

ولا يجوز أن ينظر الرجل إلى الأجنبية إلا وجهها وكفيها... فإن كان لا يامن الشهوة لا ينظر إلى وجهها إلا لحاجة ... فإذا خاف الشهوة لم ينظر من غير حاجة تحرزا عن المحرم( الهداية،كتاب الكراهية،فصل فيص الوطءوالنظروالمس ج:7،ص:195۔197)


فتویٰ نمبر : 5209/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں