بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ہاتھ سےانسانی تصویر بنانا


سوال

میرا کام اسلامک خطاطی کرنا ہے،بسا اوقات کچھ کلائنٹ (گاہک)مجھے  تصویر بنانے کاکام دیتے ہیں،توکیا میرے لیے انسانی تصویر بنانا جائز ہے یا نہیں؟اگر جائز نہیں تو پھر ڈیجیٹل تصویر کیسے جائز ہے؟

جواب

             شریعت مطہرہ کی رو سے غیر جاندار کی تصویر بنانے میں کوئی قباحت نہیں،البتہ جاندار کی تصویر بنانے کے متعلق احادیثِ  مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا،اسی وجہ سے فقہاےکرام نے  جاندار کی تصویر  بنانے کو  حرام اور ناجائز کہا ہے۔تاہم کسی واقعی ضرورت کے تحت جاندار کی تصویر بنانے کی گنجائش ہے۔

            لہذا صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگرسائل کو کوئی  کلائنٹ انسانی    تصویر  بنانے کاکہے تو اس کے بنانے کی اجازت نہیں ہے،البتہ کسی واقعی ضرورت کے وقت انسانی تصویر بنانے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے بشرط یہ کہ تصویر صرف ضرورت کی حد تک ہو۔

جہاں تک ڈیجیٹل تصویر کی بات ہے تو وہ بھی تصویر کی ایک جدید قسم ہونے کی بناء پر کسی واقعی ضرورت کے علاوہ بنانا درست نہیں۔

 

عن سعيد بن أبي الحسن، قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما، إذ أتاه رجل فقال: يا أبا عباس، إني إنسان إنما معيشتي من صنعة يدي، وإني أصنع هذه التصاوير، فقال ابن عباس: لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سمعته يقول: «‌من ‌صور ‌صورة، فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح، وليس بنافخ فيها أبدا» فربا الرجل ربوة شديدة، واصفر وجهه، فقال: ويحك، إن أبيت إلا أن تصنع، فعليك بهذا الشجر، كل شيء ليس فيه روح.(صحيح البخاري،كتاب البيوع،باب بيع التصاوير التي ليس فيها روح، وما يكره من ذلك،الحديث:2220،ج:1،ص:296)

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه  صلى الله عليه وسلم "أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم".(البحرالرائق،كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة ومايكره،ج:2،ص:29)

الضرورات تبيح المحظورات.(شرح المجلۃ للأتاسي،المادة21،ص:55)

الضرورات تتقدر بقدرها.(شرح المجلة،المادة22،ص:56)


فتویٰ نمبر : 5216/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں