بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

طلاق کی وجہ سے شوہر پر پیسے لازم کرنا


سوال

نکاح میں لڑکی والوں کی طرف سے یہ شرط لکھوائی جاتی ہے کہ  طلاق دینے کی صورت میں شوہر پر دس ہزار روپے  ماہوار لڑکی کے اولیاء کو دینا  لازم ہوں گے،جبکہ یہ رقم بھی  اولیاء ہی کی ملکیت ہوگی،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

جواب

                  شریعت مطہرہ کی رو سے طلاق کے بعد شوہر کے ذمے  مطلقہ بیوی کے لئے دوران عدت نان ونفقہ اور رہائش کا بندوبست کرنا لازم ہوتا ہے ،جب کہ عدت کے بعد نفقہ و سکنی کی ذمہ داری بھی ختم ہوجاتی ہے،نیز اگر  مہر ادا نہ کیا ہو تو  وہ بھی ادا کرے گا ،علاوہ ازیں اولیاءکا اپنے لیے  کوئی شرط لگانے کا کوئی اعتبار نہیں،لہذا شوہر پر اس کا پورا کرنا  لازم نہیں ہوگا۔ 

               صورت مسئولہ کے مطابق شوہر پر  اپنی مطلقہ بیوی کے لیے عدت کے دوران نان و نفقہ اور رہائش کا بندوبست کرنے کے علاوہ مزید  کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، لہذا  بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں عدت کے اختتام تک ا س کی رہائش اور نفقہ کا بندوبست تو شوہر کے ذمے لازم ہے،اس کے علاوہ  شوہر پر بیوی کے اولیاء کو دس ہزار روپے دینا لازم نہیں ہوں گے ،اور نہ ہی بیوی کےاولیاء کے لیے اس کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔

 

‌المعتدة ‌عن ‌الطلاق ‌تستحق ‌النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الفصل الثالث،ج:1،ص:551، دار الفكر)

المهر ‌يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء۔  (الفتاوى الهندية،كتاب النكاح، باب المهر،ج:1،ص:303،دارالفكر)

الشروط التي تشترط في عقد النكاح، وهي على أنواع: منها: ما يجب الوفاء به كحسن العشرة. ومنها: ما لا يلزم كسؤال طلاق أختها. ومنها: هو مختلف فيه مثل أن لا يتزوج عليها.وقال عمر: مقاطع الحقوق عند الشروط۔(عمدة القاري شرح صحيح البخاري،باب الشروط في النكاح، ج:20،ص:140،دار إحياء التراث العربي)


فتویٰ نمبر : 6556/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں