بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

بائع کا دستخط پر پیسے لینا


سوال

ایک شخص نےدوسرے شخص پر  زمین فروخت کی اور بائع نے اس سے پیسے وصول کئے اور مشتری نے اس پر قبضہ کر لیا لیکن زمین کا انتقال بائع کے علاوہ کسی دوسرے کے نام ہے تو کیا اس شخص کے لیے جائز ہے کہ   انتقال کے خرچہ کے علاوہ دستخط پر  اضافی پیسے لے لے ؟یاانتقال بھی بائع کے نام پر ہو ،لیکن  انتقال کے خرچے کے علاوہ بائع   خود دستخط   پر پیسے  لے لے  تو کیا یہ پیسے اس کے لیے شرعا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

              واضح رہے کہ  جب بائع اور مشتری اپس میں   باہمی رضا مندی سے کسی چیز کی بیع  طے کرلیں اور طرفین سے ایجاب و قبول ہوجائے  تو اس سے بیع تام ہوکر مشتری کے ذمہ   ثمن  اور بائع کے ذمہ  مبیع حوالہ کرنا لازم ہوتا ہے۔

              صورت مسؤلہ کے مطابق  بائع  کا زمین فروخت کر کےمشتری سےپیسے لینے کے بعد مشتری کو مبیع حوالہ کرنا لازم ہے اور خود بائع یا وہ شخص جس کے نام زمین ہو  دونوں کے لیے انتقال کے خرچہ کے علاوہ دستخط پر اضافی پیسے لینا شرعا جائز نہیں  کیونکہ یہ مشتری کا حق ہے، لہذا    ان پرلازم ہے کہ  مشتری   کو بغیر کسی مطالبہ کے  دستخط کریں ۔

 

أن ركن البيع صدر من أهله. مضافا إلى محله فوجب القول بانعقاده، ولا خفاء في الأهلية والمحلية۔ (الهداية،كتاب البيوع ،فصل في أحكامه،ج:5،ص:129)

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي۔(البحرالرائق،كتاب الحدود،فصل في التعزير،ج:5،ص:68)


فتویٰ نمبر : 3172/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں