بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

سگریٹ ،پان اور نسوار کا حکم


سوال

 سگریٹ،پان اور نسوار کا استعمال کرنا جائز ہےیا نہیں؟

جواب

             کھانے پینے کی اشیاء میں اصل اباحت ہے،جب تک کسی چیزکے بارے میں نص قطعی سے حرمت معلوم نہ ہو اس وقت تک حرمت کا حکم نہیں لگایا جاسکتا ،البتہ اگر نص قطعی سے کسی چیز کی حرمت معلوم ہوجائےتو پھر نا جائز اور حرام ہوگا۔

            سگریٹ نوشی صحت انسان کے لیے مضر اور بے شمار بیماریوں کا پیش خیمہ ہونے کے ساتھ ساتھ مال کا ضیاع اور دوسروں کے لیے باعث ضررہے ،اس لیے اس سے احتراز کرنا چاہیے ،تاہم اس پر حرام کا حکم نہیں لگایا جاسکتا،جہاں تک پان کی بات ہے تو موجودہ دور میں پان کئی قسموں پر مشتمل ہوتا ہے،ان میں سےجو پان نشہ آور یا مضر صحت نہ ہو اس کا استعمال مباح ہے ،البتہ جو پان نشہ آور یا مضر صحت اجزاء پر مشتمل ہو ان کے استعمال سے احتراز لازم ہے۔

            نسوار بھی ماہرین طب کی تحقیقات کے مطابق ،چونکہ دانتوں اور مسوڑوں کے لیے نقصان دہ ہے اور اس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف بهی پہنچتی ہے ،اس لیے اس کا استعمال بھی کراہت سے خالی نہیں ،تاہم اگر آداب مجلس اور صفائی کی رعایت رکھا جائےتو اس کے استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔

 

عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌من ‌أكل ‌من ‌هذه، قال أول مرة: الثوم، ثم قال: الثوم، والبصل، والكراث، فلا يقربنا في مسجدنا.(جامع الترمذي،ابواب الأطمعة،باب ما جاءفي كراهيةأكل الثوم والبصل ج:3،ص:594)

‌مطلب ‌المختار أن الأصل في الأشياء الإباحة أقول: وصرح في التحرير بأن المختار أن الأصل الإباحة عند الجمهور من الحنفية والشافعية(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطهارة،سنن الوضوء ج:1،ص:155)

وبالجملة إن ثبت في هذا الدخان إضرار صرف خال عن المنافع فيجوز الإفتاء بتحريمه وإن لم يثبت انتفاعه ‌فالأصل ‌حله ‌مع ‌أن في الإفتاء بحله دفع الحرج عن المسلمين فإن أكثرهم مبتلون بتناوله مع أن تحليله أيسر من تحريمه وما خير رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بين أمرين إلا اختار أيسرهما(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية،ج:2،ص:366)


فتویٰ نمبر : 5217/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں