بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کے گھر میں نماز پڑھنے کا حکم


سوال

میرے بیٹے کا گھر گاؤں سے دور ہے۔ میرے لیے اپنے بیٹے کے گھر میں  نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟پوری پڑھنی ہے یا قصر کرنی ہے ؟

جواب

            کوئی شخص  اس وقت مسافر شمار ہوتا ہے،جب وہ ستتر کلومیٹر یا اس سے زیادہ مسافت کا قصد کرکے اپنے شہر یا گاؤں کی آبادی سے نکل جائے ۔ پھر جہاں کا قصد ہو اگر وہاں پر پندرہ دن  اقامت کی نیت نہ ہو تو نماز قصر ادا کرے گا۔اور اگر وہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ وقت گزارنے کا ارادہ ہو تو پھر پوری نماز ادا کرےگا۔

                صورت مسئولہ میں   سائل کے بیٹے  کا گھر اگر اس کے اپنے گھر سے  سے ستتر کلومیٹر دور ہے اور وہاں پر سائل پندرہ دن سے کم  مدت گزارنےکا ارادہ رکھتا ہو  تو نماز قصر اداکرنی ہوگی، یعنی چار رکعت والی نمازوں کو دو رکعت پڑھے گا۔ اور اگر پندرہ دن یا اس سے زیادہ  مدت گزارنے کا ارادہ  رکھتا ہو  تو  مکمل نماز ادا کرے گا۔

 

ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر۔(الهداية:كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر،ج:1،ص:174)

من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدامسيرة ثلاثة أيام ولياليها بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة،صلى الفرض الرباعي ركعتين۔(تنوير الأبصار على صدر رد المحتار:كتاب الصلوة،باب الصلاة المسافر،ج::2،ص:599...603)


فتویٰ نمبر : 9315/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں