بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

بکری ذبح کرنے کی نذر ماننا


سوال

 اگر کسی نے نذر مانی ہوکہ فلاں تاریخ کو میراکام ہوا تو میں بکری ذبح کروں گا اور فلاں تاریخ کو کام ہو جائےتو اس پر بکری ذبح کرنا لازم ہے یا نہیں؟

جواب

                شرعی لحاظ سے ایک وہ نذر ہوتی ہے جو کسی شرط کے ساتھ نہیں جو ڑی گئی ہو، جیسے کوئی کہے کہ اللہ کےليے مجھ پر ایک مہینے کے روزے لازم ہيں ۔اس نذر کو ہر حا ل میں پورا کرنا لازم ہےجبکہ دوسری نذر وہ ہے جو کسی شرط کے ساتھ جوڑی گئی ہو، جیسے کوئی کہے کہ اگرمیرا فلاں کام ہوا تو میں اللہ کے ليےایک مہینے کے روزے رکھوں گا ،اس نذر کو کا م ہونے کے بعد پورا کرنا لازم ہے۔

                  لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ شخص کی نذر چونکہ مقررہ تاریخ پر کا م ہونے کے ساتھ جوڑی گئی ہے ،اور بکری ذبح کرنے کی نذرہے۔بکری صدقہ کرنے کی نہیں لہذا مقررہ تاریخ پر کام ہونے کے بعد بکری ذبح کرنا لازم ہے، بکری کی قیمت سے ذمہ فارغ نہ ہوگا۔

 

ومن نذر نذرا مطلقا فعلیه الوفاء،وإن علق النذر بشرط فوجدالشرط فعلیه الوفاءبنفس النذر۔(الهداية،كتاب الأيمان ،فصل في الكفارة،ج:4،ص:15،مكتبةالبشری،كراچي)

إذا صرّح بنذرالذبح لزمه۔(البحرالرائق،كتاب الأيمان ،ج:4،ص:500 ،دارالكتب العلمية،بيروت)


فتویٰ نمبر : 9337/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں