بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

والدین کے ساتھ مشترکہ فیملی سسٹم میں رہنے والے بیٹے کی ملکیت کا حکم


سوال

كسی جائینٹ فیملی میں اگرباپ  اوربیٹے اکھٹے رہتے  ہوں اور  شروع میں صرف باپ کماتا ہوجبکہ بعد میں ایک  بیٹا بھی کمانے لگےاوردونوں باپ بیٹا  مل کر گھر کا خرچہ چلاتے رہیں،توکیا بعد میں بیٹے کا یہ  مطالبہ کرنا کہ: "آج تک میں نے جتنے پیسے کما کر گھر میں خرچ کیے ہیں مجھے واپس کر دیے جائیں"صحیح ہے؟اس کے علاوہ جو  پیسے بیٹےنے کما کر اپنے ساتھ  رکھے ہوں  تو  کیا یہ پیسے بیٹے کے  ہوں گے یا مشترک  ہوں گے؟

جواب

           واضح رہےکہ  جس گھر میں باپ بیٹا مل کر کماتے ہوں اور دونوں اکھٹے گھر کا خرچ چلاتے ہوں تو جو کچھ خرچ کرتا ہےوہ تبرع اور احسان کے طور پرہی کرتا ہے،لہذا وہ خرچ کرنے کے بعد اس رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتا،البتہ جو رقم    بیٹے نے خود کمائی  ہو  اور اپنے ساتھ رکھی ہوتوشرعاً یہ پیسے بیٹے ہی کے شمار ہوں گے۔

 

إذا عمل رجل في صنعۃ ہو وابنہ الذي في عیالہ فجمیع الکسب لذلک الرجل، وولدہ یعد معینا لہ، فیہ قیدان احترازیان کما تشعر عبارۃ المتن، الأول: أن یکون الابن في عیال الأب، الثاني: أن یعملا معا في صنعۃ واحدۃ إذ لو کان لکل منہما صنعۃ یعمل فیہا وحدہ فربحہ لہ۔(شرح المجلة لسليم رستم باز، ج:2، ص:761، رقم المادة:1398)


فتویٰ نمبر : 3169/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں