بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

غیر معلوم منافع والے کاروبار میں شریک ہونا


سوال

ایک شخص کے پاس پانچ لاکھ روپے ہیں اور وہ اپنے بھائی کے ساتھ کاروبار میں شریک ہونا چاہتا ہے جس نے پينتيس لاکھ روپے پر کارخانہ بنایا ہے ،اور بھائی کہتا ہے کہ مجھے اپنے کاروبارکے منافع کا صحیح ترتیب معلوم نہیں ، اب یہ شخص پانچ لاکھ روپے دے کر اس کے ساتھ کس طرح شریک ہو سکتا ہے اور منافع کس اعتبار سے وصول کیا جائے گا؟

جواب

             واضح رہے کہ شرکت کی  صحت کے لیے ضروری  ہے کہ  شرکت ایسے مال سے ہو  جو کہ ثمن یعنی زر کے قبیل سے ہو۔ چاہے ثمن خلقی ہو جیسے درہم ودنانیر  یا ثمن عرفی ہو جیسے روپیہ ،پیسہ وغیرہ ۔حنفیہ کے ہاں ثمن کے علاوہ اشیامیں شرکت جائز نہیں ۔اسی طرح  شرکت میں یہ بھی   شرط ہے کہ نفع جزء مشاع  ہو یعنی فیصد کے اعتبا رسے ہو   نہ کہ ایک معین مقدار مثلاًایک ہزار وغیرہ۔بلکہ  ایک حصہ یا فیصد مقرر کرنا ضروری  ہے مثلاًآدھا یا تہائی حصہ یا 50 فیصد وغیرہ۔

               صورت مسؤلہ میں چونکہ ایک جانب سے رقم اور دوسری جانب سے کارخانہ ہے اس لیے  شرکت درست نہیں ہے۔ البتہ جس چیز کا کارخانہ ہے اس کا خام مال وغیرہ خریدنے کے لیے پانچ لاکھ دے اور دوسرا بھائی بھی کچھ رقم اس میں شامل کرے اور یوں شریک ہوکر منافع فیصد کے اعتبار سے مقرر کرلیں تو اس صورت میں شرکت جائز ہوگی۔

 

(أما) الشركة بالأموال فلها شروط: (منها) أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة وهي التي لا تتعين بالتعيين في المفاوضات على كل حال، وهي الدراهم والدنانير، عنانا كانت الشركة أو مفاوضة عند عامة العلماء، فلا تصح الشركة في العروض. (بدائع الصنائع، كتاب الشركة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج:7 ص:509)

قال: "ولا تجوز الشركة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح" (الهداية، كتاب الشركة ج:3 ص:7)


فتویٰ نمبر : 3183/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں