بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

پنشنرکے فوت ہونے کے بعدآنے والی پنشن کا حکم


سوال

ایک شخص سرکاری نوکر تھا، اس کے فوت ہونے کے بعد اس کی پنشن اس کی بیوی کے نام ہو گئی، اس کے بعد بیوی 2 یا 3 ماہ زندہ رہی اور وہ پنشن اس کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتی رہی۔ اب اس کو فوت ہوئے تقریباً تین سال ہو چکے ہیں اور وہ پنشن مسلسل ہر ماہ اکاؤنٹ میں جمع ہو رہی ہے۔ اس کو نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ ورثا آج کی تاریخ کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ (Death Certificate) بنوائیں اور وہ جمع کریں گے تو انہیں وہ رقم مل جائےگی۔ سوال یہ کہ عورت اپنے مرحوم شوہر کے تین ماہ بعد تک زندہ رہی تو باقی مہینوں کی پنشن لینا ورثا کے لیے جائز ہے یا نہیں، اگر جائز ہے تو یہ کس طرح تقسیم ہوگی؟

جواب

            واضح رہے کہ پنشن حکومت کی جانب سے سرکاری ملازم کے لیے عطیہ ہوتی ہے جو اس کی زندگی میں اس کو ملتی رہتی ہے اور اس کی وفات کے بعد قوانین کے مطابق یہ پنشن کسی وارث کے نام کر دی جاتی ہے چونکہ یہ عطیہ ہے اس لیے اس میں میراث کے احکام جاری نہیں ہوتے کیونکہ میراث اس مال میں جاری ہوتی ہے جو وفات کے وقت میت کی ملکیت میں موجود ہو۔

             صورت مسؤلہ میں جو پنشن اس عورت کی زندگی میں اس کے اکاؤنٹ میں آئی ہے وہ اس کی ملکیت تھی لہذا اس میں میراث کے احکام جاری ہونگے جب کہ اس کی وفات کے بعدقانونی لحاظ سے اس کا پنشن کا حق ختم ہو گیا ہے اس لیے حکومت اور بینک کو لا علم رکھ کر پنشن وصول کرنا جائز نہیں ہے۔ لہذا پسماندگان کے لیے ضروری ہےکہ حکومت کو اس عورت کی وفات کی صحیح خبر دیں، پھر حکومتی قوانین کے مطابق جس کے نام یہ پنشن جاری کر دی جائے تو یہ اس کا حق ہوگا، دیگر ورثا اس میں شریک نہیں ہونگے۔ اور اگر قوانین کے مطابق کوئی اور اس کا مستحق نہ ہو بلکہ اس کو بند کیا جائے تو ایسی صورت میں مرحومہ کی وفات کے بعد جتنی رقم آئی ہے وہ سرکاری خزانہ کو واپس کرنا ضروری ہوگا۔

 

العطاء لا يورث كذا في صلح البزازية۔ (شرح الأشباه والنظائر، ج:2، ص:495)

التركة فی الإصطلاح ما تركه المیت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال۔ (رد المحتار، كتاب الفرائض، ج:10، ص:493)


فتویٰ نمبر : 5173/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں