بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قبر پر چھوٹے چھوٹے پتھرڈالنا


سوال

کیا قبر پر بجری وغیرہ کے چھوٹے چھوٹے پتھرڈالناجائز ہےیا نہیں،جیسا کہ بعض قبروں پر چھوٹے چھوٹے پتھر ہوتے ہیں ؟

جواب

             قبرکی حفاظت یا بے حرمتی سے بچنے کے لیےاس کے اوپر چھوٹے پتھر ڈالنامرخص ہےجیسا کہ جعفر بن محمد سے روایت منقول ہے کہ ’’آپ ﷺنے اپنے بیٹے ابراہیم کی قبر پر پانی چھڑکا اور اس پر چھوٹے چھوٹے پتھر رکھے‘‘،کیونکہ اس کی وجہ سے ہوا کے ساتھ مٹی اُڑ نے سے بچ جاتی ہے اور قبر کانشان باقی رہتا ہے،البتہ زیب وزینت کے طور پر ایسا کرنے سے احترا ز لازم ہے۔

              صورت مسئولہ میں اگر قبر کی حفاظت یا بے حرمتی سے بچنے کے لیے اس کے اوپر چھوٹے چھوٹے پتھر ڈالے جائیں تو شرعاً اس کی گنجائش ہے،تاہم بلاضرورت ایسا کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

عن جعفر بن محمد، عن أبيه: " أن النبي صلى الله عليه وسلم رش على قبر إبراهيم ابنه، ووضع عليه حصباء۔(السنن الکبریٰ للبیھقی،کتاب الجنائز،باب رش الماء علی القبر ووضع الحصباء علیہ،ج:5،ص:286)

ويكره أن يبنى على القبر أو يقعد أو ينام عليه أو يوطأ عليه ۔۔۔وإذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها كذا في التاتارخانية وهو الأصح وعليه الفتوى۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الجنائز ، ج:1،ص:166)

ويوضع عليه حصى صغار محلل به،ليحفظ ترابه ۔۔۔ولأن ذالك أثبت له،وأبعد لدروسه،وأمنع لترابه من أن تذهبه الرياح،والحصباء صغار الحصا۔(كشاف القناع،كتاب الجنائز،فصل في دفن الميت،ج:2،ص:162)


فتویٰ نمبر : 5188/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں