بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

قبلہ کی طرف پاؤں پھیلانے کا حکم


سوال

اگر کوئی قبلہ کی جانب بغیرعذر کے  پاؤں پھیلائے یا اس  کی جانب پاؤں پھیلا کرسو جائے تو شرعا وہ شخص گنہگار ہوگا یا نہیں؟

جواب

             کعبۃ اللہ کی تعظیم اور آداب واحترام کی رعایت ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے،چنانچہ  فقہائے کرام کے نزدیک قبلہ کی جانب بغیر عذر قصدا پاؤں پھیلانا یا اس کی جانب پاؤں  کر کے  سونا  مکروہ  ہےاس لیے کہ یہ خلاف ادب ہے، تاہم اگر کوئی عذر کی وجہ سے قبلہ کی جانب پاؤں پھیلائے یا سو جائے تو  کوئی مضائقہ نہیں اور اس سے گنہگار بھی نہ ہو گا۔

 

(ويكره) تحريما (استقبال القبلة بالفرج)۔ ۔ ۔كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي عمدا لأنه إساءة أدب (قوله مد رجليه) أو رجل واحدة ومثل البالغ الصبي في الحكم المذكور  (قوله أي عمدا) أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا۔(قوله لأنه إساءة أدب) أفاد أن الكراهة تنزيهية۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار،فروع اشتمال الصلاة على الصماء والاعتجار والتلثم،ج2،ص428)


فتویٰ نمبر : 5171/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں