بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
میسج کے ذریعے سلام کرنے کاحکم
سوال
اگر کوئی میسج کے ذریعےانگلش زبان میں کسی کو " AS،AOA ،A.alaikum "یا اردو زبان میں لفظ"سلام"لکھ کر بھیج دیں اوردوسرا شخص میسج میں اس کا جواب” w.slam w.s ،wos “وغیرہ کے ساتھ دے تو یہ سلام کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح اگر کوئی میسج میں مسنون سلام مثلا "السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" بھیج دےتو جس کی طرف سلام بھیجا ہے وہ اس سلام کاکسی طریقے سےبھی جواب نہ دے تو شرعا اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
سلام ایک مسنون عمل ہےاورباہمی محبت و اخوت بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہے، فقہائے کرام کے نزدیک سلام کے لیے"السلام علیکم"اور "سلام علیکم " دونوں طرح کے الفاط استعمال کرنا جائز ہے ،تاہم الف لام کے ساتھ "السلام علیکم"کہنا افضل ہے،نیز ا گر کسی شخص کے پاس خط یا میسج وغیرہ میں لکھا ہوا سلام آیا ہو تو اس لکھے ہوئے سلام کو پڑھ کر جواب دینا لازم ہے،اس لیے کہ آپ ﷺ کی حدیث مبارکہ میں سلام کے جواب کو سلام کرنے والے کا حق قرار دیا ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ الفاظ "AS،AOA ،A.alaikum " وغیرہ الفاظ سے سلام کرنے اوریااس کا جواب W.S”یا”WOSوغیرہ کے ساتھ دینا سلام کے زمرے میں نہیں آتا ،لہذا اس کا جواب دینا بھی واجب نہیں،البتہ اگر کوئی علیکم کے بغیر صرف لفظ "سلام ،"slam سے کسی کو سلام کرے یا میسج میں بھیج دے اور دوسرا شخص میسج میں"“w.slam سےجواب دے تو اگر چہ ایسے الفاظ پر اکتفا کرنے والا سنت کے ثواب سے محروم رہے گا، تا ہم یہ بھی سلام کے حکم میں ہےنیز اگر کوئی میسج میں کسی کو پورا مسنون سلام بھیج دے تو جس کی طرف سلام بھیجا ہے اس کو پڑھ کر جواب دینا واجب ہے،چاہے زبان سے جواب دے یا لکھ کر جواب بھیج دے، اگر کوئی بھیجے گئےمسنون سلام کا جواب کسی بھی طریقے سے نہ دے تو واجب چھوڑنے کی وجہ سے گنہگار ہو گا۔
"عن ابي هريرۃ رضي اللّٰه عنه قال: سمعت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يقول: حق المسلم على المسلم خمس: ردّ السلام۔۔۔( صحيح البخاري، کتاب الجنائز،باب الأمر باتباع الجنائز،ج1،ص244)
(قوله ويجب رد جواب كتاب التحية) لأن الكتاب من الغائب بمنزلة الخطاب من الحاضر مجتبى والناس عنه غافلون أقول: المتبادر من هذا أن المراد رد سلام الكتاب لا رد الكتاب. لكن في الجامع الصغير للسيوطي رد جواب الكتاب حق كرد السلام قال شارحه المناوي: أي إذا كتب لك رجل بالسلام في كتاب ووصل إليك وجب عليك الرد باللفظ أو بالمراسلة"۔ ۔ ۔ له صيغتان، وهو ظاهر ما قدمناه سابقا عن التتارخانية، ثم رأيت في الظهيرية ولفظ السلام في المواضع كلها: السلام عليكم أو سلام عليكم بالتنوين، وبدون هذين كما يقول الجهال، لا يكون سلاما قال الشرنبلالي في رسالته في المصافحة: ولا يبتدئ بقوله عليك السلام، ولا بعليكم السلام لما في سنن أبي داود والترمذي وغيرهما بالأسانيد الصحيحة عن جابر بن سليم رضي الله تعالى عنه - قال: «أتيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقلت عليك السلام يا رسول الله قال لا تقل عليك السلام فإن عليك السلام تحية الموتى» قال الترمذي حديث حسن صحيح، ويؤخذ نه أنه لا يجب الرد على المبتدئ بهذه الصيغة۔(الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الحظر والاباحة،ج9،ص:594،596)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں