بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دعوت اسلام کی غرض سے قادیانیوں سے حسن سلوك كرنا


سوال

قادیانیوں کو دعوتِ حق دینے  کی غرض سے انھیں اپنے گھر بلانا یا ان کے گھر جانا نیز ان کے پاس کھانا پینا یا انھیں اپنے گھر کھانا کھلانا  اور ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

            قادیانی بہ اجماع امت کافر اور زندیق ہیں ان سے میل جول رکھنا ان کے پاس آنا جانا اور ان کے  ہاں کھانا  پینا یا انھیں کھلانا پلانا  جائز نہیں  البتہ ان کے عقیدہ اور شر سے باخبر ہوتے ہوئے ان کو دعوتِ حق دینے کے لیے ان کے پاس جانایا انھیں اپنے ہاں بلانا بلا شبہ جائز ہے۔ اسی طرح اسلام کی طرف ان کو راغب کرنے کے لیے ان کا اکرام کرنا یا ان کی دلجوئی کے لیے ان کے ہاں کچھ کھانا پینا تاکہ آگے جا کر  وہ اسلام قبول کرلیں یہ  بھی جائز ہے بشرطیکہ ان  کی مجالست سے ان کے شر کا اثر اپنے اوپر نہ ہونے کا یقین ہو ورنہ ان کے شر سے مغلوب ہوجانے کا گمان ہونے کی صورت میں  ان کو دعوت دینے کے بجائے اپنے ایمان کی فکر لازمی ہوگی۔

 

عن أنس رضي الله عنه، قال: كان غلام يهودي يخدم النبي صلى الله عليه وسلم، فمرض، فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده، فقعد عند رأسه، فقال له: أسلم ، فنظر إلى أبيه وهو عنده فقال له: أطع أبا القاسم صلى الله عليه وسلم، فأسلم...(صحيح البخاري، كتاب الجنائز، باب إذا أسلم الصبي فمات، هل يصلى عليه، وهل يعرض على الصبي الإسلام، ج:2، ص:93، رقم الحديث:1356)

قوله: (كان غلام يهودي) زعم بعضهم أنه اسمه عبد القدوس وفي الحديث دليل على جواز زيارة أهل الذمة إذا كان الزائر يرجو بذلك حصول مصلحة دينية كإسلام المريض. (نيل الأوطار، كتاب الجهاد والسير،  باب ما جاء في بداءتهم بالتحية وعيادتهم، ج:8، ص:77)

(لا تجالسوا أهل القدر): بضم أوله أي: لا تواددوهم، ولا تحابوهم، فإن المجالسة ونحوها من المماشاة من علامات المحبة وأمارات المودة، فالمعنى لا تجالسوهم مجالسة تأنيس وتعظيم لهم لأنهم إما أن يدعوك إلى بدعتهم بما زينه لهم شيطانهم من الحجج الموهمة، والأدلة المزخرفة التي تجلب من لم يتمكن في العلوم والمعارف إليهم ببادي الرأي، وإما أن يعود عليكم من نقصهم وسوء عملهم ما يؤثر في قلوبكم وأعمالكم؛ إذ مجالسة الأغيار تجر إلى غاية البوار ونهاية الخسار... فلم ينه عن مجالستهم مطلقا؛ لأن الحديث يحمل على من لم يأمن على نفسه منهم؛ فيمنع عن مجالستهم مطلقا، والآية على من أمن فلا حرج عليه في مجالسته لهم بغير التأنيس، والتعظيم ما لم يكونوا في كفر، وبدعة، وكذا إذا خاضوا وقصد الرد عليهم وتسفيه أدلتهم، ومع هذا؛ البعد عنهم أولى (مرقاة المفاتيح، كتاب الإيمان، باب الإيمان بالقدر، ج:1، ص:182)


فتویٰ نمبر : 5166/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں