بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوہ کا عدت کے دوران پنشن کی کارروائی کے لیے گھر سے نکلنا


سوال

عدت کے دوران کوئی بیوہ پنشن کے حصول کی دفتری کارروائی کے لیے گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟

جواب

          عدت کے دوران عورت کے لیے کسی شرعی عذر کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو تو دن کے وقت گھر سے نکلنے کی گنجائش ہے۔

            صورت مسؤلہ میں اگر پنشن کے حصول کی دفتری کارروائی کے لیے بیوہ کا دفتر جانا ضروری ہو اور وقت پر نہ جانے کی وجہ سے رقم ضائع ہونے یا ملتوی ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ گھر کے اخراجات کے پیش نظر پنشن حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکل سکتی ہے، تاہم کام کو جلد از جلد نمٹا کر گھر واپس آنے کا اہتمام کرے۔

 

(قوله ومعتدة الموت تخرج يوما وبعض الليل) لتكتسب لأجل قيام المعيشة؛ لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلا ولا نهارا. والحاصل أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها كذا في فتح القدير۔ (البحرالرائق، كتاب الطلاق، فصل في الإحداد، ج:4، ص:258)


فتویٰ نمبر : 6522/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں