بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر مدخول بہا کو تحریری طلاق کی ایک صورت


سوال

غیر مدخول بہا لڑکی نے اپنی مرضی سے شوہر کو بتائے بغیر طلاق نامہ بنوایا: جس میں طلاق کے الفاظ حسبِ ترتیب یوں لکھے ہوئے تھے: 1)- میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں 2)- میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں 3)- میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں شوہر نے سن کر اس کے آخر میں دستخط کر دیے، اب سوال یہ ہے کہ اس دستخط سے یہ تینوں طلاقیں جملۃً شوہر کی طرف منسوب ہوکر تینوں طلاقیں واقع ہوں گی، یا صرف پہلی طلاق واقع ہوکر لڑکی بائنہ ہو جائے گی؟ براہِ کرم ساتھ میں یہ بھی بتا دیں کہ : (2)-دستخط کی کیا حیثیت ہے؟ (3)- كيا  اس سے وہ مضمون یکبارگی منسوب ہوتی ہے یا الفاظ کی ادائیگی کی طرح بالترتیب ؟

جواب

            واضح رہے کہ کسی مکتوب پررضامندی  اور اس پرعلم ہونے کے بعددستخط کرنے سے وہ مکتوب   دستخط کرنے والے کی طرف  منسوب ہوتا ہےچنانچہ اگر  کوئی شخص اپنی بیوی کی طرف   سے تین طلاق والے طلاق نامے پرجان  بوجھ کردستخط کرے  تو اس کی بیوی اگر غير مدخول بہا ہو   اور  طلاق نامے میں تین طلاق اکھٹے مذکور ہو  تو اس  پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائيں گی  اور اگر  تین طلاق علیحدہ طور پر  لکھے گئے ہوں تو  بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور باقی دو لغو شمار ہوں گی۔نیز کتابت بمنزلہ خطاب کے ہے اس لئے کتابت  الفاظ کی ادائیگی کی طرح بالترتیب دستخط کرنے والے کی طرف منسوب ہوگی۔

          لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر  بیوی کی طرف سے طلاق نامے كے اندر لکھی گئی تحریر میں تین طلاقیں علیحدہ طور پر تحرير  ہوں اور شوہر طلاق نامہ معلوم  ہونے کے بعد اس پر رضامندی کے ساتھ دستخط کرے تو  بیوی اگر غیر مدخول بہا ہے تو اس پرایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔

 

"عن حماد قال: إذا کتب الرجل إلی امرأته -إلی- أمابعد! فأنت طالق، وقال ابن شبرمة: فهي طالق". (المصنف لإبن أبي شیبة، کتاب الطلاق، باب في الرجل یکتب طلاق إمرأته بیده،ج:5،ص:44)

"إذا طلق الرجل إمرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن ‌فرق ‌الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول،ج:1،ص:373)

الكتاب كالخطاب،والمقصود فيها هوأنه كما يجوزلإثنين أن يعقد  بينهما مشافهة عقد بيع أو إجارة أوكفالة أوحوالةأورهن أو ما إلى ذالك من العقود يجوز لهما عقد ذالك مكاتبة أيضا۔(دررالحکام شرح مجلة الأحكام،المادة:69،ج:1،ص:69)


فتویٰ نمبر : 6541/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں