بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
" کور نہ مہ وزہ کنی خدائے شتہ چی مڑ بہ دے کمہ "سے قسم منعقد ہونا
سوال
ایک عورت نے اپنے بیٹے کو پشتو زبان میں یہ کہا کہ" کور نہ مہ وزہ کنی خدائے شتہ چی مڑ بہ دے کمہ "کیا ان الفاظ سے قسم واقع ہوجاتی ہے یا نہیں؟
جواب
قسم کے وقوع کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اسم ذات"اللہ" کے ساتھ قسم کھائی جائے یا اسم صفت کے ساتھ قسم کھائی جائے جیسے :الرحمٰن ،الرحیم یا اللہ تعالی کی کسی ایسی صفت کی قسم اٹھائی جائے جس پر قسم کھانا متعارف ہو ۔
صورت مسئولہ میں یہ الفاظ کہ:" کور نہ مہ وزہ کنی خدائے شتہ چی مڑ بہ دے کمہ "عام عرف میں دھمکی اور ڈرانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اس میں قسم کا معنیٰ نہیں پایا جاتا ، لہٰذا اس سے قسم منعقد نہیں ہوگا۔
وأما ركن اليمين بالله تعالى فهو اللفظ الذي يستعمل في اليمين بالله تعالى وأنه مركب من المقسم عليه والمقسم به ثم المقسم به قد يكون اسما وقد يكون صفة والاسم قد يكون مذكورا وقد يكون محذوفا والمذكور قد يكون صريحا وقد يكون كناية، أما الاسم صريحا فهو أن يذكر اسما من أسماء الله تعالى أي اسم كان سواء كان اسما خاصا لا يطلق إلا على الله - تعالى - نحو الله والرحمن أو كان يطلق على الله - تعالى - وعلى غيره كالعليم والحكيم والكريم والحليم ونحو ذلك لأن هذه الأسماء وإن كانت تطلق على الخلق ولكن تعين الخالق مرادا بدلالة القسم إذ القسم بغير الله تعالى لا يجوز فكان الظاهر أنه أراد به اسم الله تعالى حملا لكلامه على الصحة إلا أن ينوي به غير الله تعالى فلا يكون يمينا لأنه نوى ما يحتمله كلامه فيصدق في أمر بينه وبين ربه. (بدائع الصنائع،كتاب الأيمان،فصل في ركن اليمين،ج:4،ص:13
وعن مشايخنا من قال:ما تعارفه الناس يمينا يكون يمينا،إلاما ورد الشرع بالنهي عنه،ومالم يتعارفوه يمينا لا يكون يمينا(بدائع الصنائع،كتاب الأيمان،فصل في ركن اليمين،ج:4،ص:15)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں