بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 27/10/2026 |
دارالافتاء
اپنی بیوی کو"میں نے ملک آکر تجھے چھوڑا نہیں تو میں تیرا بیٹا" کہنے سے طلاق کا حکم
سوال
میں بیرون ملک مقیم ہوں میری بیوی نے میری مرضی کے برعکس کام کیا جس پر میں نے فون پر بات کرتے ہوئے غصے میں آکر کہا کہ "میں نے ملک آکر تجھے چھوڑا نہیں تو میں تیرا بیٹا" واضح رہے کہ میرا طلاق کا اراده یا نیت نہیں تھا، اس صورت میں طلاق اور قسم کا کیا حکم ہے؟
جواب
طلاق کے وقوع کے لیے ضروری ہے کہ کوئی شخص طلاق دیتے وقت صریح الفاظ استعمال کرے یا طلاق کی نیت یا مذاکرہ طلاق کے دوران ایسا لفظ استعمال جو کہ معنی کے لحاظ سے طلاق پر دلالت کرتا ہو۔جبکہ قسم كے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالی کے اسم ذات "اللہ " یا اسم صفت جیسے "رحمٰن،رحیم" پر قسم کھائی جائے یا ایسی صفت پر جس پر قسم کھانا متعارف ہو ۔
صورت مسئولہ میں سائل کا اپنی بیوی سے یہ کہناکہ:" میں نے ملک آکر تجھے چھوڑا نہیں تو میں تیرا بیٹا" عام عرف میں طلاق کی دھمکی اور اپنےپختہ عزم کوظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہےاس لیے اس سے طلاق واقع نہ ہوگی اور نہ قسم منعقد ہوگی۔
واليمين بالله تعالى أو بإسم آخر من أسماءالله تعالى كالرحمن والرحيم أو بصفة من صفاته اللتي يحلف بها عرفا كعزة الله وجلاله وكبريائه؛لأن الحلف بها متعارف۔۔۔(ولو قال وغضب الله وسخطه؛لم يكن حالفا)۔۔۔لأن الحلف بها غير متعارف۔(الهداية؛كتاب الأيمان؛باب مايكون يمينا ومالا يمينا،ج:2،ص:477)
"قالت لزوجها من باتو نميباشم فقال الزوج مباش فقالت طلاق بدست تو است مرا طلاق كن فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك." ( الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق، الباب الثانى في إيقاع الطلاق، الفصل الثانى في الطلاق بألفاظ الفارسية، ج:1، ص:452)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 331
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 248
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 907
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 458
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 578
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 499
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 34
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 479
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 83
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 64
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 328
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1203
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 391
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں