بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نقلی چیز کو اصل کی قیمت پر فروخت کرنا


سوال

ایسی کتابیں جو اصل بھی ملتی ہوں اور نقل بھی،اور ہم نقلی بیچتے ہیں،جبکہ دونوں کی قیمتیں برابر ہوتی ہیں تو کیا یہ جائز ہےیا ناجائز؟

جواب

          واضح رہے کہ ادنی معیار کی چیز کو دھوکہ سے اعلی  معیار والی چیز  ظاہر کرکے فروخت کرنا دھوکہ دہی میں داخل  ہے اس لیے جائز نہیں ۔  تاہم  اگر بائع مشتری سے مبیع کا عیب نہ چھپائے یا مشتری کو پہلے سے عیب معلوم ہو ،اور وہ اس پر راضی ہو تو پھر جتنی قیمت پر دونوں کا اتفاق آجائے اس پر بیچنا جائز ہے۔

 

عن عقبة بن عامر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول:المسلم أخو المسلم . ولا يحل لمسلم باع من أخيه بيعا فيه عيب إلا بينه له۔ (سنن ابن ماجۃ، باب من باع عيبا فليبينه،ج:2،ص:755)

رجل أراد أن يبيع السلعة المعيبة وهو يعلم يجب أن يبينها.(الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب العشرون فى البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة، ج:3،ص:210)

أما بيان نفس العيب القائم به فلا بد منه لئلا يكون غاشا له للحديث الصحيح من غش فليس منا۔(البحرالرائق، باب المرابحة،ج:6،ص:123)


فتویٰ نمبر : 3165/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں