بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امتحانی پاکٹ،تاش ،لڈواور کیرم بورڈکی خرید وفروخت


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امتحانی پاکٹ،لڈو،کیرم بورڈ اورتاش کی خرید وفروخت جائز ہےیانہیں؟

جواب

            جوچیز  اصل کے اعتبار سے گناہ کے کام میں استعمال ہونے کے لیےنہ بنی ہو،لیکن لوگ اسے گناہ  کے کاموں میں بھی استعمال کرتے ہوں تو اس کی خرید وفروخت شریعت کی رو سے جائز اور مباح ہے۔امتحانی پاکٹ  کو بھی  جائز اور ناجائز دونوں کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہے،لہٰذا اس کی خرید وفروخت کا کاروبار کرنا شرعاً جائز ہے۔نیز جو کھیل محض لہو میں داخل ہوں تواس کاکھیلنا ممنوع ہے،لہٰذاجو کھیل شرعا مکروہ ہوتو اس کے آلات  کی خرید وفروخت بھی مکروہ کے زمرے داخل ہے۔

           صورت مسئولہ کے مطابق تاش،لڈو ،کیرم  بورڈ وغیرہ بھی  آلاتِ لہو ہیں ،عموماً اس کی وجہ سے نماز ودیگر فرائض میں بھی غفلت ہوجاتی ہے،لہٰذا اس کی خرید وفروخت سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

وعرف بهذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع المغنية۔(رد المحتار علی الدر المختار،كتاب الجهاد،باب البغاة،مطلب في كراهية ما تقوم المعصية بعينه،ج:6،ص:420)

فاذا ثبت كراهة لبسها ثبت كراهة بيعها وصيغا لما فيه من الإعانة على ما لا يجوز وكل ما أدى إلى ما لايجوز لا يجوز(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الحظر والإباحة،فصل في اللبس،ج:6،ص:360)


فتویٰ نمبر : 3168/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں