بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جانورکوطبی تجربہ کےلیے مارنا


سوال

کیاحلال جانوریاحرام جانورکوکسی طبی تجربہ کےلئےمارناجائزہے؟

جواب

               انسان اشرف المخلوقات ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، اس کے علاوہ دنیا کی تمام چیزیں سب انسان کے فائدے اور ضرورت کے لیے بنائے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے

ھُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا۔(البقرة: 29)

               اس آیت میں زمین کی تمام چیزوں کو انسان کے لیے پیدا فرمانے کا بیان ہوا ہے، اس سے ایک بات تو  یہ معلوم ہوئی کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس سے انسان کو کسی نہ کسی حیثیت سے بلا واسطہ یا بالواسطہ فائدہ نہ پہونچتا ہو، خواہ یہ فائدہ دنیا میں استعمال کرنے کا ہو یا آخرت کے لیے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا، بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ انسان کو ان سے فائدہ پہنچتا ہے، مگر اس کو خبر بھی نہیں ہوتی، یہاں تک کہ جو چیزیں انسان کے  لیے مضر سمجھی جاتی ہیں، جیسے: زہریلی اشیاء زہریلے جانور وغیرہ غور کریں تو وہ کسی نہ کسی حیثیت سے انسان کے لیے نفع بخش بھی ہوتی ہیں، جو چیزیں انسان کے لیے ایک طرح سے حرام ہیں، دوسری کسی طرح اور حیثیت سے ان کا نفع بھی انسان کو پہنچتا ہے۔ (معارف القرآن)

         چونکہ علم طب سیکھنا ،سکھانا، انسان کی  صحت کےلیے اور  اس کے جسم کو بیماریوں کے ضرر سے  بچانے کےلیے ضروری ہے، لہذا میڈیکل کی تعلیم میں مہارت حاصل کرنے  کے لیے کسی حلال یاحرام جانورکوطبی تجربہ کےلیےمارناجائزہے،البتہ ایسا  طریقہ اختیارکرنا چاہیے  جس سے جانور کو تکلیف  کم سے کم ہو۔

 

عن عبد الله بن عمرو يرفعه قال : من قتل عصفورا فما فوقها بغير حقها سأل الله عز و جل عنها يوم القيامة قيل يا رسول الله فما حقها قال حقها أن تذبحها فتأكلها ولا تقطع رأسها فيرمى بها۔(سنن النسائي،باب من قتل عصفورابغيرحقها،ج:7،ص:239)

قال رسول الله ﷺ:"من قتل عصفوراً فما فوقه بغير حقه سأله الله عز وجل عن قتله، قيل: يا رسول الله وما حقه؟ قال: أن يذبحه فيأكله ولايقطع رأسه فيرمى به". أقول: ههنا شيآن متشابهان لابد من التمييز بينهما: أحدهما الذبح للحاجة واتباع داعية إقامة مصلحة نوع الإنسان. والثاني السعي في الأرض بفساد نوع الحيوان واتباع داعية قسوة القلب".(حجة الله البالغة،باب الأطعمة والأشربة،ج:2،ص:551)


فتویٰ نمبر : 5164/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں