بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پیچھےکی راہ سے جماع کرنا


سوال

اگر کوئی شخص بیوی کیساتھ پیچھےکی  راہ سےہمبستری کرتا ہواور بیوی اس سے بہت زیادہ تنگ ہوہر وقت اس  کو چھوڑنے کا اور طلاق دینے کی  دھمکی دیتی ہواور بیوی کی نیت سے نہ دیکھتی ہواور وہ بیوی بےبس ہوجاتی ہےتو کیا اس فعل کے کرنے کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگی یا نہیں نیز ایسی بیوی اس فعل پر مجبورہوتو  گنہگار ہوگی یا نہیں؟

جواب

               واضح رہے کہ بیوی کے ساتھ پیچھے کی راہ سے ہمبستری کرنا حرام ہے، اور حدیث کی رو سے لعنت کا باعث ہے، لہذا اس سے بچنا ضروری ہے، ورنہ سخت گناہ ہوگا، تاہم اس غیر فطری عمل سے نکاح نہیں ٹوٹتا ہے۔نیزاگر واقعی بیوی کیساتھ مجبور ہوکر  غیر فطری  طریقے سےہمبستری کی جاتی ہے  تو اس سے بیوی گنہگار نہ ہوگی۔ 

 

قال الله تعالی: (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ) (البقرة: 223)

عن ابن عباس، قال: ۔۔۔ فأوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الآية: {نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم} [البقرة: 223] ‌أقبل ‌وأدبر، واتق الدبر والحيضة: " (سنن الترمذي، أبواب تفسير القرآن، ‌‌باب: ومن سورة البقرة، ج:5، ص:216)

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌ملعون من أتى امرأته في دبرها." »۔(سنن أبي داود، كتاب النكاح، باب في جامع النكاح، ج:2، ص:249)

عن أبي ذرالغفاري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله قد تجاوز عن أمتي الخطأ، والنسيان، وما استكرهوا عليه»۔(سنن ابن ماجه،باب طلاق المكره والناسي،ج:1،ص:659)


فتویٰ نمبر : 6520/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں