بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا


سوال

دو اجنبی گواہوں کے سامنے لڑکا اور لڑکے کا نکاح کیا گیا، مجلس نکاح میں لڑکا موجود تھا اور لڑکی کا وکیل بھی وہ خود تھا، جب کہ اس کے لڑکی کی جانب سے وکیل مقرر ہونے پر کوئی گواہ نہیں ہے۔نکاح باندھتے وقت لڑکا اور لڑکی کے والدین کا نام بھی لیا گیا۔ یہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں؟

جواب

            شریعت مطہرہ کی رو سے جب لڑکا اور لڑکی یا ان کے وکیل دو مسلمان گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کر لیں تو چاہے گواہ انہیں پہچانتے ہوں یا نہ پہچانتے ہوں بہرحال نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔ جب کہ نکاح کا وکیل مقرر کرنے کے لیے گواہ کا ہونا ضروری نہیں ہے اور لڑکا خود لڑکی کی طرف سے وکیل بھی بن سکتا ہے۔

            صورت مسؤلہ میں گواہوں کی موجودگی میں لڑکے نے جو نکاح کیا ہے یہ منعقد ہو چکا ہے۔

 

النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي ۔ ۔ ۔ ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين۔ (الهداية،كتاب النكاح ،ج:2، ص:325)

(كما للوكيل) الذي وكلته أن يزوجها على نفسه فإن له (ذلك) فيكون أصيلا من جانب وكيلا من آخر۔ (الدرالمختار علی صدر ردالمحتار، كتاب النكاح، باب الكفاءة، ج4، ص:227)

واعلم أنه لا تشترط الشهادة على الوكالة بالنكاح بل على عقد الوكيل۔ (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب النكاح، مطلب في الوكيل والفضولي في النكاح، ج:4، ص:221)


فتویٰ نمبر : 6521/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں