بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

حاکم کے علاوہ مفتی وغیرہ کا تنسیخ نکاح کرنا


سوال

ایک عورت اپنے خاوند کے ظلم اور مار پیٹھ کی وجہ سے تنگ ہو کر خلع کرنا چاہتی ہے کہ مجھے خاوند طلاق دے دے مگر خاوند کسی صورت میں طلاق دینے کے لیے راضی نہیں ہے وہ عورت عدالت کی طرف رجوع کرتی ہے مگر عدالت کی طرف سے اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوتیکیا کوئی ایسی صورت ہے جس کی وجہ سے تنسیخ نکاح ہوجائے یعنی قاضی کے علاوہ کوئی اورشخصی یعنی مفتی فسخِ نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ اگر شوہر طلاق یا خلع پر راضی نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں مسلمان حاکم یا عدالت کوتنسیخ نکاح کا اختیار حاصل ہےاوریہ تنسیخ شرعاًمعتبر ہوگی،البتہ جہاں مسلمان قاضی موجود ہوں وہاں عدالت کے علاوہ کسی اور کا فسخ نکاح شرعا معتبر نہیں۔

             صورت مسئولہ میں مسلمان ملک میں حاکم کےعلاوہ کسی مفتی  وغیرہ کا فسخِ  نکاح  شرعاً معتبرنہیں ہے،لہٰذا عورت  بدستور شوہرکی زوجیت میں رہے گی۔

 

وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ،ففي مجموع الأمير ما نصه :إن منعها نفقة الحال، فلها القيام، فإن لم يثبت عسره أنفق،أو طلق، وإلاطلق عليه ـ قال محشيه: (وإلاطلق) أي عليه الحاكم من غير تلوم. (الحيلة الناجزة، ص:133)

ولا يكون التفريق بذلك إلا عند القاضي أما بدون فسخ القاضي فلا ينفسخ النكاح بينهما۔(الفتاوی الهندية،كتاب النكاح،ج:1،ص:292)


فتویٰ نمبر : 6527/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں