بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

نسبی بھائی کی رضاعی بہن سےنکاح کرنا


سوال

کیا حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سےنکاح کرنا جائز ہےیا نہیں ؟

جواب

           شریعت مطہرہ کی رو سے دودھ پینے والے بچے کے لیے دودھ پلانے والی عورت اور اس کے اصول وفروع سے نکاح کرناجائز نہیں لیکن یہ حرمت صرف اس دودھ پینے والے کے ساتھ خاص ہے، اس کے دوسرے بہن بھائیوں کےلیے اس مرضعہ اور اس کے اصول وفروع کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے ۔

           لہذا صورت مسئولہ کے مطابق حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سےنکاح کرنا جائز  ہے۔

 

ولو أرضعت أمه جارية لها إخوة وأخوات كان له أن يتزوج أخوات تلك الجارية؛ لأن التي أرضعتها الأم أخته من الرضاعة، ولا سبب بينه وبين أخواتها۔(المبسوط،باب تفسيرلبن الفحل،ج:30،ص:301)


فتویٰ نمبر : 6516/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں