بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ہسپتال کی مفت دوائی بازار میں فروخت کرنا


سوال

ہسپتال سےاگر دوائی ملازم کومفت ملے، وہ اسے ضرورت پوری ہونے کے بعد بازار میں فروخت کرےیااس کے بدلے باہر میڈیکل سٹور سے دوسری قسم کی دوائی لےتو کیا حکم ہے؟ اور اگر ملازم سے ماہانہ، میڈیکل کی مد میں کچھ کٹوتی بھی ہوتی ہو۔

جواب

            واضح رہے کی کسی ادارہ کی طرف سے اپنے ملازمین  کو مفت جو سہولیات یا اشیاءفراہم کی جاتی  ہیں، وہ ادارہ کی طرف سے عطیہ اورتبرع ہوتی ہیں۔

           صورت مسؤلہ کہ مطابق اگر ہسپتال سے دوائی ملازم کو مفت  ملتی ہو اور  وہ اسے ضرور ت پوری  ہونے کے بعد بازار میں فروخت کر ے یا دوسری دوائی کے ساتھ تبدیل کرےتو یہ اس کے لیے جائز ہے، صرف اس بات کا خیال رکھنا چاہیے  کی یہ ان دوائیوں میں سے نہ ہو جس  پر (Not For Sale)  کا مہر ہو تا ہے۔یا  ہسپتال کی طرف سے اس  کو آگے فروخت کرنے پر پابندی نہ ہو۔

 

كتاب الهبة وجه المناسبة ظاهر (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال.وشرعا:(تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه۔(الدر المختار على صدرردالمحتار،كتاب الهبة،ج:6،ص:24)


فتویٰ نمبر : 3163/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں