بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

یوٹیوب چینل پر اشتہارات کی تشہیر کے ذریعے کمائی کا حکم


سوال

 یوٹیوب  چینل پر  اصلاحی بیانات وغیرہ اپ لوڈ کرنے  کےبعد  یوٹیوب والے ان ویڈیوز پرمختلف  چیزوں کی   اشتہارات شائع کرتے ہیں۔ اس کے  عوض یوٹیوب چینل کے مالکان کورقم دیتے ہیں  تو کیا درست اشتہارات کی تشہیر کے ذریعے  کمائی کرنا  شرعا جائز ہے یا نہیں ؟اور اگر ایڈز درست نہ ہوں تو کمائی کا  کیا حکم ہے؟

جواب

             يوٹيوب چينل  كے مالك كے ليے  اشتہارات کی تشہیر سے حاصل ہونے والی  آمدنی چند شرائط كی رعايت   کےساتھ جائز ہےجو کہ درجہ ذیل ہیں:

1۔یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ ویڈیوز خواتین کی تصاویر ، موسیقی اور دوسرے شرعی منکرات پر مشتمل نہ ہوں۔

2۔وہ ویڈیوز جائز اور فائدہ مند معلومات پر مشتمل ہوں۔

3۔اگر ویڈیو زمیں  کسی کاروبار یا کسی سکیم کے بارے میں معلومات  فراہم کی گئی ہو ں تو وہ کاروبار یا سکیم جائز ہو۔

 4۔اشتہارات میں سےان کیٹیگریز کو فلٹر کر دیا جائے  جو شرعا جائز نہ ہوں۔

5۔ اشتہارات کی کیٹیگریز فلٹر کرنے کے باوجود اگر کسی نا جائز پراڈکٹ کا اشتہار یا فحاشی کو ترویج دینے والا اشتہار لگ جائے یا اس اشتہار میں کوئی اور غیر شرعی مواد مثلا : میوزک، و غیره پایا جاتاہو توایسی صورت میں یو ٹیوب چینل کے مالک کی رضامندی اور اجازت اگرشامل نہ ہو تو  اس  پر وبال نہ ہوگا، البتہ پہلے ایسے اشتہارات کو بلاک کرنے کا اہتمام کیا جائے  اور پھر ایڈ ریویو سنٹر(Add Review Center) میں اشتہارات کا جائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدنی صدقہ کر دی جائے ۔

6۔یو ٹیوب  چینل کے لیبل پر اورویڈیوز میں نمایاں طور پر تحریر کیا جائے کہ اشتہار میں اگر میوزک ہے تو اس کی آواز بند کر دی جائے یا کوئی بھی خلاف شرع چیز ہےتو اس سے نظر پھیر دی جائے،ایسا کرنے کے بعد اگر کوئی شخص عمل نہیں کرتا تو اس کا گناہ اسی پر ہو گا۔

 

قال الله تعالی: وَلَا تعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ( المائدہ:2)

"الإجارة: عقد يرد على المنافع بعوض" (الهدايه ،کتاب الاجارات ،ج:3،ص295)

الأمور بمقاصدها يعني أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر"(شرح المجلة لخالد الاتاسي ، المقالة الثانية فی القواعد الفقهية، المادۃ:2،ج1،ص13)

(ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهي) ؛ لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجرة من غير أن يستحق عليه؛ لأن المبادلة لا تكون إلا عند الاستحقاق وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه"(البحرالرائق شرح کنزالدقائق ، کتاب الاجارۃ،باب الاجارۃ الفاسدۃ،ج،8 ص34)

وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط.(الفتاوي الهندية،الفصل ا لرابع في فساد الاجارة،ج4،ص450)


فتویٰ نمبر : 3166/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں