بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

جرگہ والوں کا ایک فریق پر مالی جرمانہ لگانا


سوال

 جرگہ کا کیا حکم ہے، نیز جرگہ اگر کسی فریق پر مالی جرمانہ لگائے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

           واضح رہے کہ باہمی نزاع کو ختم کرنے کی غرض سےمتخاصمین(فریقین) کا کسی دانش مندشخص یا جماعت(جرگہ) سے فیصلہ کرنا تحکیم کہلاتاہے۔ بعض اوقات زعمائے جرگہ فریقین کے درمیان مصالحت کے طور پر زیادتی کرنے والے شخص پرجرمانہ لگاتے ہیں جس کو فقہائے کرام تعزیر بالمال سے تعبیر کرتے ہیں۔اگرچہ تعزیر بالمال(جرمانہ)کےجوا ز اور عدم جوازمیں فقہاء کا اختلاف ہے،تاہم موجودہ دور میں انتظامی مصلحت کی بنیاد پر معاشرہ میں امن وسلامتی کو فروغ دینے کے لیےمالی جرمانہ لگانے کی گنجائش ہےبشرطیکہ جرمانہ لینے والے اسے اپنے ذاتی استعمال میں نہ لائیں بلکہ غرباء پر صدقہ کریں یا مفاد عامہ میں لگائیں۔

 

مالك عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب أن رقيقا لحاطب سرقوا ناقة لرجل من مزينة فانتحروها. فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب فأمر عمر، كثير بن الصلت أن يقطع أيديهم. ثم قال عمر: أراك تجيعهم. ثم قال عمر: والله، لأغرمنك غرما يشق عليك. ثم قال للمزني: كم ثمن ناقتك؟ فقال المزني: كنت والله أمنعها من أربع مائة درهم فقال عمر: أعطه ثماني مائة درهم.(موطأ الامام مالك،باب:القضاء في الضواري والحريسة،ج:4،ص:1083)

يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ومن قال: إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها.وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته - صلى الله عليه وسلم - مبطل لدعوى نسخها والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ولا إجماع يصحح دعواهم.(معين الحكام،فصل أصل التعزير والعقوبة هل يتجاوز به،ج:1،ص:195)

وفي الخلاصة سمعت عن ثقة أن التعزير بأخذ المال إن رأى القاضي ذلك أو الوالي جاز ومن جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال(البحر الرائق،فصل في التعزير،ج:5،ص:44)


فتویٰ نمبر : 5156/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں