بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

تصدیق کےپیسےلینا


سوال

ایک افسر یا نمبردار یا چیئرمین، جو لوگوں کے کاغذات کو اٹیسٹ کر کے اس پر اپنا مہر اور سائن کرلیتا ہے اور اس سے یہ تصدیق ہوجاتی ہے کہ اس آدمی کے کاغذات میں کسی قسم کی دو نمبری نہیں ہے اور یہ آ دمی بالکل صاف ہے، اب اس تصدیق یا سائن یا مہر کے پیسے لینا شریعت میں جائز ہے یا نہیں۔رہنمائی فرمائیں؟

جواب

               واضح رہےکہ اگرافسریانمبرداریاچیئرمین کی ذمہ داری ہوکہ وہ کاغذات کواٹیسٹ کرکےاس پراپنامہراورسائن کرےگا،اوریہ اس کےواجبی کام میں داخل ہوتواس تصدیق یاسائن کےپیسےلینااس کےلئےجائزنہیں ہے،اوراگراس کی ذمہ داری نہ ہوتوپھرتصدیق کےپیسےلیناجائزہے۔

 

ومنها أن لا يكون العمل المستأجر له فرضا ولا واجبا على الأجير قبل الإجارة فإن كان فرضا أو واجبا قبلها لم يصح(الفتاوى الهندية،الباب الأول في تفسيرالإجارة،ج:4،ص:411)


فتویٰ نمبر : 5186/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں