بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

عمرہ کےطواف کودرمیان میں چھوڑنا


سوال

میرا ایک ساتھی عمرے پہ گیا ہے جیسے پہنچا تو پہلے طواف کے تیسرے چکر میں گردے کا درد پیش آیا کچھ  وقت یعنی دو تین گھنٹے کے بعد دوبارہ سرے سے طواف کیا۔پہلا والا طواف وہی ڈھائی چکراپنی جگہ رہ گیا ہے۔عمرہ دوبارہ کیا ہے۔اب کیا حکم ہے؟

جواب

             طواف شروع کرکےدوچکر لگانے کے بعد اس طواف کا پورا کرنا ذمہ پر لازم ہوجاتاہے، دوچکر لگانے کے بعد اگر طواف چھوڑ دےپھردوتین گھنٹےکےبعدواپس آکر باقی  چکر لگالے یانئےسرےسےطواف کرلےتو بھی طواف ہوجائے گا۔

            لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص چارچکرمکمل کرنےسےپہلےطواف ترک کردےاوردوبارہ نئےسرےسےطواف کرکےعمرہ اداکرےتواس کاعمرہ اداہوجائےگا۔

 

"ولو خرج منه أو من السعي إلى جنازة أو مكتوبة أو تجديد وضوء ثم عاد بنى.۔۔۔۔ إذا خرج لغير حاجة كره ولايبطل فقد قال في اللباب: ولا مفسد للطواف وعد من مكروهاته تفريقه أي الفصل بين أشواطه تفريقاً كثيراً، وكذا قال في السعي، بل ذكر في منسكه الكبير لو فرق السعي تفريقاً كثيراً كأن سعى كل يوم شوطاً أو أقل لم يبطل سعيه ويستحب أن يستأنف۔(الدرالمختارمع ردالمحتار،مطلب في طواف القدوم ،ج:2،ص:497)


فتویٰ نمبر : 9308/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں