بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

جانوروں كے ماده توليد کی خريد و فروخت کا حکم


سوال

جانور کا مادہ تولید نکال کر اس کو میڈیکل پراسس سے گزار کر انجکشن تیار کیے جاتے ہیں کیا  ان انجکشنوں  کو بیچنا جائز ہے یا نہیں  ؟ اگر بیچنا  ناجائز ہےتو جائز صورت کونسی ہوگی؟

جواب

                حمل ٹھہرانےکے لیے  جانوروں کو انجکشن لگانا ایک خلاف  فطرت عمل ہے ،لیکن جانوروں  کی افزائش  اور اعلیٰ  نسل    بڑھانے کے لیے اس طرح کا  عمل کرنے پر شریعت میں کوئی پابندی نہیں ، اس  لیے  اس   مقصد کے لیے اگر ان انجکشنوں کی خرید و فروخت کی جائے  تو اس کی گنجائش ہوگی۔

 

وهذا لأنه ليس من ضرورة حرمة التناول حرمة البيع، فإن الدهن النجس لا يحل تناوله، ويجوز بيعه، وكذلك بيع السرقين جائز، وإن كان تناوله حراما، والسرقين محرم العين، ومع ذلك كان بيعه جائزا۔(كتاب المبسوط،كتاب الأشربة،ج:24،ص:15)


فتویٰ نمبر : 3195/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں